Mendirman Jaloliddin

Mendirman Jaloliddin is yet another spectacular work of Mehmet Bozdag, who is the producer of Dirilis Ertugrul and Kurulus Osman .

میندرمان جلال الدین سیریز تاریخ کے اس دور کا احاطہ کرے گی جب جلال الدین مینگوبردی نے جنگ پروان میں منگول سلطنت کی فوج کو شکست دی اور آخر دم تک اپنی سلطنت کا بھرپور دفاع کیا۔ یہ سیریز ایک شیر دل شخص، جلال الدین خوارزم شاہ کی حقیقی کہانی ہے، جو چنگیز خان کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ چنگیز خان نے ان کے بارے میں یہ الفاظ کہے: “خوش نصیب ہے وہ ماں جس نے جلال الدین جیسے بیٹے کو جنم دیا اور عظیم ہے وہ باپ جس کے سائے میں اس نے پرورش پائی۔ اگر میرا جلال الدین جیسا بیٹا ہوتا تو دنیا کو فتح کرنے سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا تھا”
اس سیریز میں پاکستان میں دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ کچھ علاقوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ پاکستان میں 1985 عیسوی میں اس شخصیت کے پر مبنی “اختری چٹان” کے نام سے ایک ٹی وی سیریز بنائی گئی تھی۔
“میندرمان جلال الدین” سیریز عظیم ترک حکمران جلال الدین خوارزم شاہ کی زندگی کے حالات کو بیان کرے گی۔ جلال الدین کے والد (محمد دوئم) نے منگول حملے کے خلاف اپنی ریاست کا دفاع کرنے کی کوشش کی لیکن چنگیز خان اور اس کی سفاک فوج کا مقابلہ کرنا بہت مشکل تھا۔ محمد دوئم کو مغرب کی طرف پیچھے ہٹنا پڑا۔ محمد نے صورتحال کی پیچیدگی کو بھانپا اور اپنے بیٹوں کو بھی اس میں شامل ہونے کے لئے بلا لیا۔ اس ملاقات میں محمد دوئم نے اپنے بیٹے جلال الدین کو بطور سلطان مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ نیز اس ملاقات کے بعد محمد بیمار ہوگئے اور جلد ہی خالق حقیقی سے جا ملے۔
جیسے ہی جلال الدین نے تخت سنبھالا، انہوں نے کابل کے شمال میں منگولوں کو شکست دی۔ اس فتح کے بعد جلال الدین کے لئے مشکلات میں یکے بعد دیگرے اضافی ہوتا گیا کیونکہ ان کے بھائی ان کے سلطان بننے پر راضی نہ تھے اور دوسری طرف منگول حملے مزید پُرتشدد ہو گئے۔ میندرمان جلال الدین کو ازبکستان میں مارا گیا۔
ٹیلی ویژن سیریز تیرہ اقساط پر مشتمل ہو گی۔ مختلف ممالک ترکی، ازبکستان، آذربائیجان اور ایران کے تاریخ دانوں نے سیریز کے اسکرپٹ پر کام کیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ میندرمان جلال الدین 1200 عیسوی میں وسطی ایشیاء میں زندگی، جنگوں اور اس وقت کے لوگوں کو تفصیلاً بیان کرے گی۔ صحرائی جنگ کے مناظر کو صوبہ اکسری میں فلمایا گیا، جو استنبول سے 750 کلومیٹر دور ہے۔ 200 سے زیادہ افراد نے ملبوسات پر کام کیا۔ انہوں نے پوشاکوں کو انہماک سے تیار کیا تاکہ پرانے وقت کی صحیح تصویر کشی کر کے سامعین کو حقیقت کے قریب تر مناظر دکھائے جا سکیں۔

Back to top button