The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

3بلوچستان اسمبلی جلاس، توجہ دلائو نوٹس پربحث، صوبائی وزیر نورمحمددمڑ ،ملک نصیر شاہوانی ،احمد نواز بلوچ اور اخترحسین لانگو کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ … -ایک دوسرے … مزید

9

$کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 14 ستمبر2020ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈرملک نصیراحمد شاہوانی کے توجہ دلائو نوٹس پربحث کے دوران صوبائی وزیر نورمحمددمڑ ،ملک نصیر شاہوانی ،احمد نواز بلوچ اور اخترحسین لانگو کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ،ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کرتے رہے بیک وقت بولنے سے کان پڑی آواز سنائی نہ دی ۔پیر کے روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ملک نصیراحمدشاہوانی نے توجہ دلائو نوٹس پیش کرتے ہوئے کہاکہ مارکیٹ کمیٹی کوئٹہ کاممبر /چیئرمین قوائد وضوابط کے تحت کوئٹہ کے مقامی زمیندار کوہی مقرر کیاجاتاہے جبکہ قوائد کے برخلاف کسی دوسرے ضلع کے زمیندار وممبر /چیئرمین منتخب کرنے کی کیاوجوہات ہے تفصیل دی جائے ۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر زراعت کی عدم موجودگی میں وزیرپی ایچ ای /واسا حاجی نورمحمد دمڑ نے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ کمیٹی کاچیئرمین یقینی طورپر مقامی زمیندار ہونا لازمی ہے انتخاب کے طریقہ کار یہ ہے کہ کمیٹی کے ارکان کے انتخاب سے قبل ان کی اراضی کی تصدیق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے کی جاتی ہے اوراس کے بعد کمیٹی کے ممبران اپنے چیئرمین کا انتخاب کرتے ہیں ،اس کیلئے ضروری ہے کہ ارکان کی کوئٹہ میں اراضی اور جائیداد ہونی چاہیے بی این پی کے ملک نصیرشاہوانی نے کہاکہ کمیٹی کے جو چیئرمین بنائے گئے ہیں ان کی شائد کاروباری حوالے سے کوئٹہ میں زمین ہو مگر ان کا کوئٹہ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ کوئٹہ کے مقامی زمیندار ہے ان کی تقرری سے کوئٹہ کے مقامی زمینداروں سے ناانصافی کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے جو بھی وزیر بنتاہے وہ اپنے حلقے کے لوگوں کو کوئٹہ کی آسامیوں پر ملازمتیں دے دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دوسرے اضلاع کے لوگوں کی بڑی تعداد کوئٹہ میں ملازمت کررہی ہے یہی کچھ حال ہی میں واسا میں بھی کی گئی ہے جہاں ایک شہر سے بڑی تعداد میں لوگوں کو ملازمتیں دی گئی ہے جو موجودہ زرعی کمیٹی کے چیئرمین بنائے گئے ہیں ان کا تعلق ژوب سے ہے ان کاشناختی کارڈ تک کوئٹہ کا نہیں اگر ہم سے ناانصافیوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو ہم اپنی مارکیٹ کمیٹی بنائیںگے جس کے بعد حالات کی ذمہ داری حکومت پرعائد ہوگی اس سلسلے میں ہم مقامی قبائل کے اجلاس میں فیصلہ کرینگے ۔

صوبائی وزیر نورمحمددمڑ نے کہاکہ مارکیٹ کمیٹی کے چیئرمین کا زمیندار ہونا لازمی ہے اس کیلئے ضروری نہیں کہ اس کاشناختی کارڈ کوئٹہ سے ہو جہاں تک واسا میں تقرریوں کا معاملہ ہے تو اس وقت واسا میں دو ہزارافراد ملازمت کررہے ہیں جن میں سے 5سو کا تعلق کوئٹہ اور باقی کا دوسرے اضلاع سے ہے جبکہ سابق دور حکومت میں ایک دن میں 4سو افراد بھرتی کئے گئے ہیں جن میں 200کا تعلق قلعہ سیف اللہ سے تھا میرے دور میں 10اضلاع سے میرٹ پرملازمتیں دی گئی زیارت سے جن لوگوں کو ملازمتیں ملی ہیں وہ زیارت کے زلزلے کے بعد سے کوئٹہ کے رہائشی ہے اور میرٹ پر ملازمت کررہے ہیں ،بی این پی کے اخترحسین لانگو نے کہاکہ کوئٹہ کو لاوارث سمجھ لیا گیا چوکیدار کی آسامی پر خواتین کو بھرتی کیا گیا ہے سابق دور میں نواب نوروز سپورٹس کمپلیکس میں 260سے زائد مالی بھرتی کئے گئے مگر ان میں سے آج کوئی کام کرتاہوا نہیں نظرآتا اسی طرح واسا میں بھرتی ہونے والے لوگ بھی کل زیارت میں نظرا ئیںگے ۔اس موقع پر صوبائی وزیر نورمحمددمڑ ،ملک نصیر شاہوانی ،احمد نواز بلوچ اور اخترحسین لانگو کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کرتے رہے ارکان کے بیک وقت بولنے سے کان پڑی آواز سنائی نہ دی بعدازاں ڈپٹی اسپیکر نے توجہ دلائو نوٹس نمٹادی

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More