The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ی*وزیراعلیٰ سندھ کی مخدوم ہائوس آمد، مخدوم عقیل الزمان کے انتقال پر اہلخانہ سے تعزیت … Uسندھ میں سیلابی صورتحال ہے مگر وفاق کسی بھی قسم کی مدد نہیں کررہا ، وفاقی حکومت … مزید

20

‘حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 13 ستمبر2020ء) وزیر اعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے ہالا پہنچ کر مخدوم ہائوس میں سروری جماعت کے روحانی پیشوا مخدوم جمیل الزماں سے انکے بھائی صوبائی وزیر روینیو مخدوم محبوب الزمان سے انکے چچہ مخدوم عقیل الزماں کے انتقال پر ان سے تعزیت کی۔ اس موقع پر ایم این اے سردار سکندر علی راہپوٹو کے علاوہ سینیئر میمبر بورڈ آف روینیو قاضی شاہد پرویز ، ڈویزنل کمشنر حیدرآباد محمد عباس بلوچ ، ڈی سی مٹیاری غلام حیدر چانڈیو ، ایس ایس پی مٹیاری آصف بگھیو اور دیگر بھی انکے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر مخدوم ہائوس ہالا میں میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی نااہلی کا ملبہ ہمیشہ پی پی پی کی حکومت کے اوپر ڈالنے کی کوشش کرتی ہے اور وفاقی حکومت ملک کے دیگر صوبوں کو تو اپنے ساتھ لیکر چلتی ہے جبکہ سندہ حکومت اپنے حقوق اور مسائل سے متعلق آواز اٹھاتی ہے تو وفاقی حکومت کی جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ میں اس وقت سیلابی صورتحال ہے مگر وفاقی حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی مدد نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے مختلف علاقوں کے دورے کیے ہیں اور وہاں کے مکین یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ میں 2010کے دوران آنے والے سپر فلڈ کے دوران جس طرح انکی مدد کی گئی اس قسم کی مدد کی ضرورت ہے مگر یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ کہ 2010کے دوران آصف علی زرداری ملک کے صدر تھے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو صوبے کے برسات متاثرین کی پریشانیوں کا احساس ہی نہیں ہے اور پتہ نہیں کہ وہ کیوں چاہتے ہیں کہ سندھ کے لوگ پریشان رہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری پر فرد جرم عائد ہونا کوئی نئی بات نہیں انہوں نے پہلے بھی کیسز کا بھادری سے مقابلہ کیا ہے اور اب بھی کریں گے اور اپنی بے گناہی ثابت کرینگے جبکہ ان پر کیے جانیوالے تمام کیسز سیاسی ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ میں ہونے والی بارشوں کے دوران 25لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں اور حکومت سندھ کی جانب سے 29اضلاع میں سے 21اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے اور متاثرین سے ہر ممکن تعاون کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ بے گھر ہونے والے لوگوں کیلئے 42ہزار خیمے فراہم کیے گئے ہیں ، 20ہزار سے زائد کشتیاں فراہم کی گئی ہیں جبکہ متاثرین میں راشن کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے اس کے باوجود انہوں نے واضح کیا کہ متاثرین کی تعداد زیادہ ہے اور حکومت سندھ کے وسائل کم ہیں جس کیلئے وفاقی حکومت کو تحریری اور زبانی طور پر معاونت کی درخواست کی جا چکی ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ گذشتہ روز کراچی میں سفارتکاروں سے ملاقات کی اور انہیں سندھ سیلاب کی صورتحال سے متعلق آگاہی دی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں میڈیا سے یہ شکایت ہے کہ انہوں نے برسات متاثرہ علاقوں کی مناسب کوریج نہیں کی جس کی وجہ سے سفارتکاروں کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ سندھ کے دیہی علاقوں کی برسات کے بعد کیا صورتحال ہے اور ہمیں اس چیز کا علم نہیں ہے کہ میڈیا کے اس عمل کے پیچھے کون سی سازشیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کا کردار اہم ہے اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ سندھ کے عوام کو درپیش مسائل کو اچھی طرح اجاگر کرے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت سندھ کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سندھ کے عوام کا ہے تاہم وفاقی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ سندھ کے برسات متاثرین کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More