The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ہیڈ کوچز اور منیجرز نے نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں انتظامات کو قابل تحسین قرار دے دیا … پہلی مرتبہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اس قدر معیاری سہولیات اور بہترین انتظامات دیکھے، عبدالرزاق پی … مزید

13

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 18 اکتوبر2020ء) ہیڈ کوچز اور منیجرز نے نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں انتظامات کو قابل تحسین قرار دے دیا۔ تیصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے اپنے مکمل ڈومیسٹک سیزن کا اعلان کیا۔ شرکاء کی حفاظت کے پیش نظر بائیو سیکیور ببل میں جاری ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کا پہلا ٹورنامنٹ نیشنل ٹی ٹونٹی کپ مکمل ہوگیا،تیس ستمبر سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ میں کوویڈ 19 پروٹوکولز پر سختی سے عملدرآمد کیا گیا۔ اس دوران کھلاڑیوں اور ٹیم آفیشلز کو کوویڈ19 ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آنے پر بائیو سیکیور ببل میں داخلے کی اجازت دی گئی۔ معیاری ہوٹلز میں قیام اور پھر جم کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔

(جاری ہے)

بائیو سیکیور ببل میں رہتے ہوئے ذہن کو تروتازہ کرنے کے لیے ہوٹل میں تفریح کی غرض سے انڈور گیمز کا خاص اہتمام کیا گیا۔ٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیموں کے ٹیم منیجرز، ہیڈ کوچز اور اسسٹنٹ کوچز نے انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پی سی بی کے اقدامات کو قابل ستائش قرار دیا ہے۔

ڈومیسٹک سیزن 97-1996 میں فرسٹ کلاس ڈیبیو کرنے والے سابق آلراؤنڈر اور کے پی ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ عبدالرزاق نے بائیو سیکیور ببل میں پی سی بی کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ 123 فرسٹ کلاس، 345 لسٹ اے اور 142 ٹی ٹونٹی میچز کھیلنے والے عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلی مرتبہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اس قدر معیاری سہولیات اور بہترین انتظامات دیکھے ہیں، معیاری ہوٹل میں قیام سمیت مجموعی طور پر ایک شاندار ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا۔سدرن پنجاب کے ہیڈ کوچ عبدالرحمن کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اس کے معیار کے عین مطابق سہولیات کی فراہمی قابل ستائش عمل ہے۔ گزشتہ دہائی سے ڈومیسٹک کرکٹ میں کوچنگ کی ذمہ داریاں نبھانے والے عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ نیشنل ٹی ٹونٹی کپ کے دوران مقابلوں کا معیار اعلیٰ رہا، یہاں کھلاڑیوں کو بہترین پلیئنگ کٹس اور مناسب سفری سہولیات فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل کے کھانے اور رہائش بھی بہترین رہی۔140 فرسٹ کلاس، 89 لسٹ اے اور 93 ٹی ٹونٹی میچز کھیلنے والے سابق فاسٹ باؤلر اعزاز چیمہ نے کہا کہ بلاشبہ صحت سب سے پہلے آتی ہے اور پی سی بی نے ہماری صحت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ٹورنامنٹ کے انعقاد کے لیے بائیو سیکیورببل تیار کیا۔سنٹرل پنجاب کے منیجر اظہر زیدی کا کہنا ہے کہ ایک کامیاب ٹورنامنٹ کے انعقاد پر پی سی بی داد کا مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بائیو سیکیور ببل میں ٹورنامنٹ کا انعقاد آسان نہ تھا مگر بہترین سہولیات اور پی سی بی کی اعلیٰ شخصیات کی متواتر یہاں آمد سے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند رہے۔سندھ کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ باسط علی کے پاس 12 سال تک ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کا تجربہ ہے۔ 133 فرسٹ کلاس اور 154 لسٹ اے میچز کھیلنے والے باسط علی نے کہا کہ ٹورنامنٹ کے آغاز کے 2 سے 3 روز سخت تھے کیونکہ ہمیں ذہنی طور پر مشکلات کا اندیشہ تھا مگر وہ ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ ندیم خان کے مشکور ہیں جنہوں نے زبردست سہولیات فراہم کرکے ایک بہترین ٹورنامنٹ کے انعقاد کو یقینی بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام چھ ٹیمیں ایک فیملی کی طرح ایک ہی ہوٹل میں رہیں۔194 فرسٹ کلاس، 130 لسٹ اے اور 8 ٹی ٹونٹی میچز کھیلنے والے محمد وسیم کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے ٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیموں کو عمدہ سہولیات فراہم کیں، ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کے لیے بہترین ہوٹل میں رہائش اورجم کی مناسب سہولیات فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے ہمارے لیے ہر ممکن انتظامات کیے۔ بلوچستان کرکٹ ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ وسیم حیدر 1992 کرکٹ ورلڈکپ کی فاتح پاکستان کرکٹ ٹیم کا حصہ تھے۔ 132 فرسٹ کلاس اور 104 لسٹ اے میچوں کا تجربہ رکھنے والے وسیم حیدر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال میں ٹورنامنٹ کا انعقاد قطعاًً آسان نہیں تھا مگر پی سی بی نے کھلاڑیوں اور ٹیم آفیشلز سمیت ٹورنامنٹ کے تمام شرکائ کو بہترین سہولیات فراہم کرکے اس ٹورنامنٹ کو کامیاب بنادیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More