The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ہم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے قواعد کی پاسداری کی جبکہ بھارت نے قاعدے کی خلاف ورزی کی اور دو طرفہ معاملے پر اعتراض اٹھایا … وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا شنگھائی تعاون … مزید

14

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 16 ستمبر2020ء) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں دو طرفہ معاملات کو نہیں اٹھایا جا سکتا، ہم نے ایس سی او کے قواعد کی پاسداری کی، بھارت نے اس قاعدے کی خلاف ورزی کی اور دو طرفہ معاملے پر اعتراض اٹھایا۔ بدھ کوشنگھائی تعاون تنظیم کے این ایس ایز اجلاس میں بھارت کی جانب سے اٹھائے جانے والے بلاجواز اعتراض کے حوالے سے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس کچھ دن قبل ماسکو میں ہوا جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا۔شنگھائی تعاون تنظیم میں یہ اصول طے ہے کہ اس فورم پر دو طرفہ معاملات کو نہیں اٹھایا جا سکتا۔ دو طرفہ معاملات کیلئے سائیڈ لائن ملاقاتیں طے ہوتی ہیں۔

(جاری ہے)

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے ایس سی او کے قواعد کی پاسداری کی۔بھارت نے اس قاعدے کی خلاف ورزی کی اور دو طرفہ معاملے پر اعتراض اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ کل شنگھائی تعاون تنظیم کے این ایس ایز کا اجلاس تھا جس میں بھارت نے پاکستان کے نقشے پر اعتراض اٹھایا جسے مسترد کر دیا گیا چنانچہ اسے ندامت اٹھانا پڑی۔

مقبوضہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے،اقوام متحدہ کی اس ضمن میں قراردادیں موجودہیں۔روس نے اجلاس کے میزبان کی حیثیت سے بھی بھارت کے نقطہ نظرکو تسلیم نہیں کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے سکیورٹی ایڈوائزر نے اجلاس سے واک آؤٹ کی دھمکی دی اور پھر واک آؤٹ کیا۔بھارت اپنے رویے سے ہر فورم پر اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔لداخ کے حوالے سے چین نے بھارت کو بارہا گفتگو کے ذریعے معاملات کو سلجھانے کی پیشکش کی لیکن بھارت نے وہاں بھی جارحیت کا راستہ اختیار کیا اور پھر اسے سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔بھارت کی جارحانہ حکمت عملی کو چین نے تسلیم نہیں کیا جبکہ چین نے بھارت کو جارحیت پر جواب دیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More