The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ہمارے اورآپ کا تعلق ورابطہ ایک نظریے اورعقیدے پرہے، مولانا عبدالواسع … اس نظریئے اورعقیدے کی بنیادپرہم اس حدتک ایک دوسرے کاساتھ دینگے کہ اگراپنی جان کی قربانی ، سرکی … مزید

7

ہرنائی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 15 ستمبر2020ء) جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیرایم این اے مولاناعبدالواسع نے کہاہے کہ ہمارے اورآپ کا تعلق ورابطہ ایک نظریے اورعقیدے پرہے، اس نظریئے اورعقیدے کی بنیادپرہم اس حدتک ایک دوسرے کاساتھ دینگے کہ اگراپنی جان کی قربانی ، سرکی قربانی کے ضرورت پڑھ جائیتوہم اس سے بھی دریغ نہیں کرینگے،زندگی میں ہم کہیں بھی جان کی قربانی دینے کے لئے تیارنہیں لیکن اسی جمعیت علماء اسلام اوراسی عقیدے ونظریئے پر جان کی قربانی بھی دے سکتے ہیں، جیسے کہ ہم جانتے ہیں کہ ماضی قریب میں اسی ہرنائی کے شہیدشاہ محمدترین نے قائدجمعیت پر قربانی دی، اوراسی ہرنائی کا ایک کارکن غازی محمدعثمان ترین شدید زخمی ہوئیجوکہ آج وہی جوان پھرہمارے استقبال میں کھڑے تھے،توایک طرف ہمارایہ جذبہ ہے کہ جمعیت علماء اسلام پر جان دے سکتے ہیں، دوسری جانب ہم اسی جمعیت علماء اسلام کے جھڑیں کاٹتے ہیں، اورپھریہ بھی نہیں سوچھتے ہیں کہ ہم جس درخت کی جھڑیں کاٹ رہے ہیں اس کے نتیجے میں کیسے کیسے پھول اورکیسے کیسے پھل ضائع ہوجاتے ہیں کیسے لوگ ضائع ہوجاتے ہیں اورجب یہ ضائع ہوجائیں توان کی جگھوں پروہ ہمارے دشمن جاگزین ہونگے جوہمارے، اسلام، اورتمام علماء اورمدارس ومساجدکے ازلی دشمن ہیں،بلکہ ان کا ایجنڈایہی ہے کہ جس دین اورجس اسلام کے لئے ہم اورآپ نے قربانیاں دی ہیں تاکہ ہم سے ہمارامقام چھین لے وہ بھی انتہائی آسانی اورانتہائی خوشحالی کے ساتھ،اورمیں دیکھتاہوں کہ ہمارے ہی جمعیت علماء اسلام کے لوگ جن ہمارے دشمنوں کے لئے کام کررہے ہیں بعد میں انہیں
!پیغام بھی بیھجوادیتے ہیں احساس بھی یاددلاتے ہیں کہ میں اس کے لئے کیاکیاکام کرتاہوں،اورمیں انتہائی آسانی کے ساتھ اس کے لئے اپنے باغ کو کاٹ رہاہوں اس کے لئے زمین ہموارکررہاہوں،میری اس کارکردگی کاانعام میں ضرورمانگتاہوں،جمعیت علماء اسلام کو منہدم کرنے کوشش یہی ہم اورآپ کررہے ہیں، امی لوگ اسے خراب نہیں کرتے ہم ہمارے علماء ہی ہیں جوآپس مین دست وگریبان ہیں، جس جماعت کی وجہ سے ہمیں عزت ملی ہے اورمل رہی ہے اورجس جماعت میں ہماری داڑیاں سفیدہوئی ہے تکالیف سہہ سہہ کر، آج ان تمام شیزوں کو پس پشت ڈال کرہم اپنی اس درخت کے تنے کو انتہائی مردانگی سے کاٹ رہے ہیں،بس ایک چیزکی رٹ لگاتے ہیں کہ بس میں حق بول رہاہوں کہ رکن سازی میں دھاندلی ہوئی میں حق بول رہاہوں کہ فلان شخص کیوں منتخب ہوا میں حق کہہ رہاہوں کہ فلان شخص کیوں عاملہ میں ہے اورمیں نہیں ہوں ایک طرف ایسے مطالبات دوسری جانب ہم ہی لوگوں کو یہ وعظ ونصیحت کررہے ہیں کہ منہ مانگے عہدے اورذمہ داری کے ساتھ اللہ کی مددونصرت نہیں ہے جبکہ اسی جماعت کی(جس میں عہدوں پر لڑرہے ہیں) کی ہم جھڑے میں کاٹ رہے ہیں توکیایہ مجموعہ تضادات نہیں ہم حیران ہیں کہ جماعت کی بقاء آپس میں اتحاداوراتفاق پیداکرنے کے لئے قرآن مجیدکے اس آیت کی تلاوت کرتیہیں” واعتصموابحبل اللہ جمیعاولاتفرقوا” لیکن جب اس جماعت کے ٹوڑنے پرآجائے اورٹولہ جسے ہم نے جماعت کوتوڑنے کے لئے بنایاہے انہیں پھری اسی آیت کی تبلی-غ کرتے ہیں کہ آپس میں متحدرہوخلاصہ یہ کہ ایک “واعتصموا” ہے اسی سے جماعت بناتے بھی ہے اورتوڑتے بھی ہے جن اضلاع میں کسی کو عہدہ اورذمہ داری نہیں ملی ہے وہ آپس میں اسی آیت کی رٹ لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ آئیے متحدرہ کرفلان فلان اورفلان کی شخصیت اورحیثیت کومجروح کرسکتے ہیں، اپنایہ حال ہے جبکہ عوام کو باورکراتے ہیں آپ اپنوں سے رشتہ بھی توڑڈالو، قرابت بھی ختم کرلو، جماعت کو بجانے کے لئے سرکی قربانی بھی دے دو، توہمارے کہنے پر عوام قربانی بھی دیتے ہیں، رشتے ناطے بھی توڑڈالتے ہیں اپنے بڑوں سے برسرپیکاربھی رہتے ہیں لیکن ہم ہمیں کوئی عہدہ یاذمہ داری نہ مل سکے تواسی عوام پھرہم کہتے ہیں کہ اب وہ قربانی والاٹائم ختم ہوااب گھروں میں آرام سے بیٹھ جاؤیاپھرجماعت کے خلاف شازش کے لئے کمرکس لو،میں مانتاہوں کہ ہمارے رکن سازی اورتنظیم سازی کے طریقہ کارمیں خامی ہے لیکن یہ اوراسی خامی کی وجہ سے جمعیت نظریاتی وجودمیں آئی لیکن یہ مجموعی طورپرایک خامی ہیلیکن وہی نظریاتی والے جب قائدجمعیت کے ساتھ مذاکرات ہورہے تھیتوان کو چاہئے تھاکہ اس خامی کو ختم کرواکرانضمام کرلیتے ، لیکن نہیں ان کو بھی جب سیٹیں مل گء توسب کچھ بھول گئے، اب بھی ہمیں چاہئے کہ ہرضلع وصوبہ سے ہم مرکزکو تجاویز ارسال کریں، تاکہ مرکزان پر غوروفکرکریں، اورپھراس مجموعی خامی کو دورکرکے دستورمیں ترمیم کرلیں،کیونکہ ہر5 سال جماعت جن پریشانیوں سے دوچارہے وہ اسی طریقہ کارکی وجہ سے کنوینرتواپنی دستوری ذمہ داری پوری کررہاہے، دستورنے اسے حق دیاہے،اسی لئے کنوینرسے ہمیں کوئی شکایت نہیں کرنی چاہئے، وہ تواپنے دستوری اختیارات استعمال کررہاہے اس میں کسی کنوینراورناظم انتخابات کی کمزوری یابدنیتی نہیں ہے بلکہ یہ ایک اجتماعی کمزوری ہے کبھی مجھ پرآتی ہے کبھی آپ پر کبھی کس پراورکبھی کس پر، بلکہ رکن سازی اورتنظیم سازی کے طریقہ کارمیں جواجتماعی خامی ہے اسے ختم کرنے اوردورکرنے کے لئے ہمیں سرجوڑکرفکرکرنی چاہئے ہرصوبہ کے ہرضلع کے ذمہ داراورصاحب بصیرت اراکین تجاویزلکھ کرمرکزکو ارسال کریں کہ اس طریق کارکی جس طرح اصلاح ممکن ہواس کی اصلاح ہونے چاہئے،لیکن ہماری مشکل یہ ہے کہ جب تنظیم سازی اوررکن سازی کے نتیجے میں کوئی فریق ناراض ہوجائے تواس فریق کونہ تو جماعت کے فردپررحم وترس آتاہے اورنہ مجموعی جماعت پررحم آتاہے بس جماعت کے خلاف اورجماعت کے ذمہ داروں کے خلاف جماعت
Kکوتوڑنے کیلئے جواس فریق کابس چلے گریزنہیں کرتے اس طرح کی حرکت کرنے کا کسی کواجازت نہیں ہے مثال کے طورپر پاکستان ایک ریاست ہے جس پرموجودہ حکمران عمران خان ہے جمعیت علماء اسلام کاروزاول سے یہ موقف رہاہے کہ یہ یہودوہنودکے ایجنٹوں اسرائیل اورقادیانیوں کے آلہ کاروں کی حکومت ہے عمران خان اوراسکے پشت پرامریکہ اوراسرائیل ہے جبکہ جمعیت علماء اسلام فردواحدہوکرحکومت کے ساتھ برسرپیکارہے لیکن اس کامطلب تویہ نہیں ہے جمعیت علماء اسلام کے ریاست کے بنیادوں کو اکیڑناچاہتی ہے ، ریاست کومنہدم اورختم کرناچاہتی ہے یاپھرریاست کے اندردوسری ریاست قائم کرناچاہتی ہے،بلکہ ہم پاکستان کی بنیادرکھنے والے بھی ہے پاکستان کو ماننے والے بھی اس کی حفاظت بھی ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، لیکن اس طرح کی بے انصافی اوراس طرح کی بیراہ روی یہ ہم نہیں مانتے ہیں، اب موجودہ صورت حال میں امیرمرکزیہ کایہ حکم اورپیغام ہے کہ یہ جودس سالوں سے ساتھیوں کی شکایات ہیں انہیں سن لیاجائے جوقابل حل اورقابل غورشکایات ہیں انہیں حل کیاجائے اوران کا ازالہ کیاجائیلیکن جیسے ریاست کے
خ*اندردوسری ریاست ناقابل برداشت بعینہ اسی طرح جماعت کے اندردوسری جماعت بھی ناقابل برداشت ہے یہ بات نہیں چلتی کہ آج آپ کو کوئی شء نہیں ملی تواپنی طرف سے جماعت کے اندر کسی دوسری جماعت یاتنظیم کی بنیادرکھ لیں، بہت ہوچکاہے اب بات ختم ہوجائیگی ہم نے تمام اضلاع کادورہ شروع کیاہے قابل حل شکایتیں سنیں گے اورپھرجوحل ہوسکے انہیں حل کریں گے آپ کے ہرنائی کا بھی کیس ہمارے صوبائی جماعت کے پاس جمع ہواتھاہم نیفریقین کو سنادستوری طریقہ کارکے مطابق ہم نے ان سے اختیارات لئے دوتین مہینوں کے بعد آپ کی خدمت میں حاضرہوئے ہیں آپ کے تمام علماء کرام ہمارے لئے قابل قدرہیں کسی کے ساتھ ہماری ذاتیات ہیں اورنہ ہی ہم کسی کی بلاوجہ وکالت کرتے ہیں جودستوری اختیارات ہیں وہ استعمال کرتے ہیں اورجوہم سے نہ ہوسکے توبلاوجہ آپ لوگوں کو تنگ کرتے ہیں اورنہ ہی اس معاملے میں کھودپڑتے ہیں ہم ایک نتیجے پرپہنچے ہیں، جس کا خلاصہ اورلب لباب یہ ہے کہ میں ان تمام ساتھیوں سے گزارش کرتاہوں کہ جماعت ساتھ چلیں، روکاوٹ نہ بنیں، اورآپس میں مل بیٹھ کراندرونی معاملات خودہی طے کرلیں، تواس میں جماعت کا بھی خیرہوگااورفریقین کا بھی، اگرچہ مولانانصیب اللہ کا کہنایہ تھاکہ آپ ہمارے صوبائی امیرہے آپ اگریہی اپنے گھرسے ہم جاڑولگانے کے لئے حکم دیں تب بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں البتہ اگرآپ ہرنائی آکرساتھیوں کی دل جوئی کریں توبہتررہیگااس لئے میں یہاں آکرآپکی خدمت میں حاضرہواہوں اورآپ کے لئے بس یہی پیغام لایاہوں کہ جماعت ساتھ مل جاؤ جماعت کو چلنے دو، روکاوٹ نہ بنو آپس میں شیروشکرہوکردشمن کو شکست دیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More