The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ اور لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی لاہور کے درمیان تعلیم تحقیق و تخلیق کے حوالہ سے باہمی تعاون کا معاہدہ طے پا گیا

16

مانسہرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 14 ستمبر2020ء) ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ اور لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی لاہور کے درمیان تعلیم تحقیق و تخلیق کے حوالہ سے باہمی تعاون کا معاہدہ طے پا گیا۔امریکن انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان سٹڈیز اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں معاہدے کی یادداشت پر ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد اور وائس چانسلر لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ مرزا نے دستخط کئے۔ تین سالہ معاہدے کے تحت ڈیپارٹمنٹ آف آرکیٹکچر اور ہزارہ یونیورسٹی کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ ریسرچ کے شعبوںمیں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے دو طرفہ تحقیقی پروگراموں میں اشتراک، فیکلٹی اور سکالرز کی لیبارٹریوںاور تحقیقی مواد تک رسائی، ریسرچ پبلیکشنز اور تکنیکی و سائنسی علوم کے تبادلے سمیت مشترکہ کانفرنسوں، سیمینار اور تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کرسکیں گے۔

(جاری ہے)

معاہدے کے تحت دونوں ادارے نئے تحقیقی منصوبہ جات کی فیزیبیلیٹی، اس کے حصول کے طریقہ کاراور موزونیت کے بارے میں اپنے تجربات کا تبادلہ بھی کریں گے۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ آج کا معاہدہ تحقیق کے میدان میں ہزارہ یونیورسٹی اور لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے لئے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس معاہدے کے روبہ عمل ہونے سے دونوں ادارے ایک دوسرے کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے سائنس کے میدان میں نئے رجحانات ترتیب دے سکیں گے جو علمی حوالوں سے نہایت صحت مند اور مسابقتی ماحول پیدا کرتے ہوئے ہمارے نوجوان طلباء و طالبات اور ایم فل و پی ایچ ڈی سکالرز کے لئے ریسرچ کے نئے مواقع پیدا کرنے کا باعث ہوں گے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تحقیقی اداروں کا کام نئے علوم دریافت کرنا اور انہیں اپنے ارد گرد کے حالات سے موافق بنا کر معاشرے کی بہتری کے لئے استعمال کرنا ہے تاکہ ملکی و قومی ترقی میں ہاتھ بٹایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ یونیورسٹی ملکی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعلیمی و تحقیقی شعبہ جات کی ترقی کے حوالوں سے پہلے سے کئے گئے کئی معاہدوں کے تحت مصروف عمل ہے اور مذکورہ معاہدہ سے یونیورسٹی میں جاری تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں میں مزید بہتری اور وسعت آئے گی۔وائس چانسلر نے کہا کہ ہزارہ یونیورسٹی اس وقت پاکستا ن بھر سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات اور سکالرز کو جدید اور معیاری تعلیمی و تحقیقی کی سہولیات فراہم کر رہی ہے اور یونیورسٹی اپنے بہترین محل وقوع، قدرتی حسن اور پر امن تعلیمی ماحول کی بدولت نہ صرف خیبر پختونخواہ بلکہ ملک کے دیگر صوبوں سے بھی طلباء و طالبات یہاں پر اپنی تعلیمی و تحقیقی سرگرمیاں جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ اعلیٰ تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ اور ریسرچ کے میدان میں جدید تکنیک اپنا کر ہم نہ صرف پاکستان کو درپیش چیلنجز پر قابو پاسکتے ہیں بلکہ معیاری ریسرچ کی بدولت ملکی مسائل کا حل بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر یونیورسٹی کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ڈاکٹر شاکر اللہ خان، ڈائریکٹر ڈاکٹر محسن نوازاورمنیجر یونیورسٹی انڈسٹریل لنکجززبیر عالم خان بھی موجود تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More