The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ھ*جمعیت علماء اسلام نظریاتی کا ادویات کی قیمتوں سمیت اشیاء خوردنوش میں اضافے کی مذمت

31

جمعرات اکتوبر
09:04

nکوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 01 اکتوبر2020ء) جمعیت علماء اسلام نظریاتی ضلع کوئٹہ کے امیرقاری مہراللہ ‘حاجی حبیب اللہ صافی‘ مولوی نیازمحمد‘آغامولوی ابراہیم شاہ ‘ حاجی دادمحمد‘ مولوی اللہ بخش اوردیگر نے ادویات کے قیمتوں سمیت اشیاء خوردنوش میں بے تحاشا میں اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس سے پہلے آٹا،چینی گھی چائے دال سمیت اشیاء استعمال روزمرہ کے قمیتوں میں بے تحاشااضافہ نے غریب عوام کے ہوش اڑادیئے اب جان بچانے کی ادویات میں اضافہ نے رہی سہی کسرپوری کردی ہے دیگراشیاء خوردنی کے بعد اب ملک میں آٹا کی مصنوعی بحران مصنوعی جنم سے عوام کی خون کونچوڑاجارہا ہے ملک میں 2.

(جاری ہے)

1 ملین میٹرک ٹن گندم موجود ہونے کی باوجود آٹا بحران مافیاز کی تجوریاں بھرنے کے لیے پیدا کی گئی ہے پہلے بحران کے ذمہ دارمافیا کاتعلق بھی حکمران طبقہ سے ہیں جوبحفاظت بیرون ملک چلے گئے اور مہنگائی اور استحصال کے تسلسل سے عوام کے ساتھ جو کھلواڑ چل رہا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اس نظام میں رہتے ہوئے آئی ایم ایف جیسے سامراجی اداروں کی جکڑ بندیوں اورمعاشی بحران سے نجات حاصل کرنا ناممکن ہے عالمی اداروں کیخوشنودی کیلئے قانون سازی قواعدوضوابط کے بھی پروا نہیں کیاجارہاییں لیکن غریب بیبس عوام کیلئے خالی خولی وعدوں کے سواکچھ نہیں اورغریب عوام خودکشیوں پرمجبور ہے انہوں نے کہا کہ مہنگائی سے تمام تر ضروریاتِ زندگی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں آٹا چور چینی چور مافیاز کی ہوس کا خمیازہ محنت کش مزدور اور غریب عوام مہنگائی کی صورت میں بھگت رہی ہے مہنگائی اور بیروزگاری سے بدحال عوام کی چیخیں طاقت کے ایوانوں میں سنائی نہیں دے رہی ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بھی اپنے مفادات سمیٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی .

غریب عوام کی مشکلات کااحساس کسی کونہیں غریب عوام کوایک طرف سے لاک ڈائون نے نان شبینہ کومحتاج بنایا گیااور دوسری طرف سے مہنگائی اور زخیرہ اندوزی سے مشکلات کاسامنا کررہے ہیں اب جان بچانے والی ادویات کے قمیتوں میں کئی گناہ اضافہ غریبوں پرمہنگائی بم حملہ کے مترادف ہے انہوں نے جان بچانے والے ادویات میں اضافے کی بجائے کمی کرنے اورغریب عوام کیلئے مفت علاج ومعالجے کی اقدامات کرنے کامطالبہ کیا ہی

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More