The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

کے ایم سی و ڈی ایم سیز کے ملازمین فزیکل ویریفکیشن کے عمل کا لازمی حصہ بنیں، سجن یونین … گھوسٹ ملازمین ادارے کے ساتھ ساتھ شہر کیلئے بھی نقصان دہ ہیں، 49 سال سے کم اور زائد … مزید

14

گھوسٹ ملازمین ادارے کے ساتھ ساتھ شہر کیلئے بھی نقصان دہ ہیں، 49 سال سے کم اور زائد عمر کے ملازمین کی علیحدہ علیحدہ لسٹوں کی تیاری سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، سید ذوالفقار شاہ

بدھ ستمبر
22:32

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 16 ستمبر2020ء) سجن یونین (سی بی ای) کے ایم سی کے مرکزی صدر سید ذوالفقار شاہ نے کہا ہے کہ کے ایم سی و ڈی ایم سیز کے ملازمین فزیکل ویری فکیشن کے عمل میں لازمی طور پر حصہ لیں۔ کام کرنے والے عملے کی ملازمتوں کا دفاع کرنا ہماری اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کا سجن یونین نے نہ پہلے کبھی دفاع کیا ہے اور نہ ہی آئندہ کریں گے البتہ بیماری میں مبتلا ملازمین میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ہمراہ درخواست روانہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 49 سال سے زائد اور کم عمر ملازمین کی علیحدہ علیحدہ لسٹوں کی تیاری سے ملازمین خوفزدہ نہ ہوں اور نہ ہی کسی قسم کی منفی پروپیگنڈے کا شکار ہوں۔ کسی ملازم کو جبری طور پر ریٹائر نہیں کیا جاسکتا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ملازمین کی سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے چھان بین اور فزیکل چیکنگ کی ہے۔ اس عمل کا مقصد گھوسٹ ملازمین کا کھوج لگانا ہے۔

گھوسٹ ملازمین ادارے کے ساتھ ساتھ شہر کیلئے بھی نقصان دہ ہیں کیونکہ ان کے حصے کا کام ڈیوٹی کرنے والے ملازم کو کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ NDMA کے سربراہ بریگیڈیئر شہزاد پرویز کو کراچی کے انفرا اسٹرکچر کی بہتری کیلئے کے ایم سی ہیڈ آفس میں دفتر دیا گیا ہے وہ تمام شہری اداروں سے کوآرڈینیشن کریں گے کیونکہ کے ایم سی کے پاس کراچی کا صرف 27 فیصد کنٹرول ہے بقایا کنٹرول 23 دیگر اداروں کے پاس ہے لہٰذا کو آرڈینیشن کے بغیر کراچی کا انفرا اسٹرکچر بہتر نہیں بنایا جاسکتا۔ لہٰذا ملازمین اپنے حصے کا کام باقاعدگی سے کریں کسی ملازم کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More