The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

کیا تحریک منہاج القرآن اپنے قائد کی زندگی میں ہی ہائی جیک ہوچکی ہے، رحیق عباسی سابق مرکزی جنرل سیکریٹری … ادارہ منہاج القرآن فرانس بحران کی زد میں ،مخالف دھڑے آمنے سامنے … مزید

6

پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 ستمبر2020ء،نمائندہ خصوصی،صاحبزادہ عتیق) فرانس کی سب سے بڑی اور منظم مذہبی جماعت کے آپس میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ، پہلی بار سوشل میڈیا پر ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے شروع ہوگئے ، گزشتہ روزمرکز منہاج القرآن پاکستان کی طرف سے ادارہ منہاج القرآن فرانس کے سابق جنرل سیکریٹری اور دیرینہ ساتھی چوہدری ظہیر گجر کی بنیادی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد آپسی اختلافات جو پہلے اندرون خانہ تھے اب سب کے سامنے آشکار ہوگئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے ، سابق مرکزی جنرل سیکریٹری پاکستان منہاج القرآن رحیق عباسی نے ظہیر عباس کی بنیادی رکنیت کے خاتمے اور سوشل میڈیا پر جاری مخالف مہم پر افسوس کا اظہار کیا۔

(جاری ہے)

رحیق عباسی نے اپنی پوسٹ میں مرکز کی طرف سے بغیر شوکاز نوٹس کے بنیادی رکنیت ختم کرنے کے طریقہ کار اور اس کی تشہیر کو تحریک منہاج القرآن کے لئے نقصان دہ قرار دیا۔

انہوں نے یہ بھی لکھا کہ کہ کیا یہ وہی تحریک ہے جس کو میں نے اپنی زندگی کے تیس سال دئے یا یہ تحریک اپنے قائد کی زندگی میں ہی ہائی جیک ہوچکی ہے ۔ دوسری طرف منہاج القرآن فرانس کی سینئر ترین قیادت کی اکثریت نے اس یکطرفہ فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور چوہدری ظہیر گجر کے گھر جاکر ان کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ جن میں منہاج القرآن فرانس کے کئی سابق صدور اور جنرل سیکریٹری شامل تھے۔ سوشل میڈیا پر ہی منہاج القرآن انٹرنیشنل فرانس کے پرانے تحریکی ساتھی اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے معتمد ساتھی صوفی نعیم جوڑا کی طرف سے اس یکطرفہ فیصلے اور سوشل میڈیا پر تشہیر سے بدل ہوکر اپنی فیملی سمیت بنیادی رکنیت سے استعفٰی کی خبریں بھی زیر گردش ہیں۔ منہاج القرآن کی سینئر قیادت کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے نادان دوست ذاتی مفادات اور اپنی مشہوری کے لئے تحریک منہاج القرآن کو مزید تقسیم کرنے میں اپنا گھٹیا کردار ادا کررہے ہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More