The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

کوہلو میں ہزاروں افراد ملیریا کے مرض میں مبتلا ہونے لگے … عوامی اور سماجی حلقوںکا حکو مت سے مریضوں کی تشویشناک صورت حال پر فوری نوٹس لینے کا مطا لبہ

18

عوامی اور سماجی حلقوںکا حکو مت سے مریضوں کی تشویشناک صورت حال پر فوری نوٹس لینے کا مطا لبہ

اتوار اکتوبر
18:55

کوہلو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 18 اکتوبر2020ء) بلوچستان حکومت کی صحت کے حوالے سے بلند بانگ دعوں کے باوجود صوبے میں صحت کے مسائل بڑھتے جارہے ہیںصوبے میں صحت کا ایسا کوئی مربوط نظام سرے سے ہی موجود نہیں ہے جو بڑے پیمانے کی وبائی صورتحال کو مناسب اوربروقت حل کرسکے بلوچستان کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع کوہلو میں آئے روز ملیریا کے مریضوں میںتشویش ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے کوہلو کے شہری علاقوں سے لیکر دیہی علاقوں ،ماوند ،تھدڑی ،کاہان ،نساو ،سوریں کہور ،تمبو، گرسنی سمیت ملحقہ علاقوں میں لوگ ہزاروں کی تعداد میں مہلک مرض میں مبتلا ہورہے ہیں اور اس وقت کوہلو کے سرکاری اور پرائیوٹ ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ مزید مریضوں کو ایڈمٹ کرنے کی گنجاش ختم ہوگئی ہے مگر لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اس کے باوجود کوہلو میں کام کرنے والی ملیریا پروگرام کا عملہ تاحال خواب خرگوش سے کیوں نہیں جاگ سکا ہے سروے اور رپورٹ مرتب کرنا تو دور ملیریا پروگرام کے زیر اہتمام رواں سال تاحال عوام کے لئے نہ تو کسی آگاہی سیمینار ،آگاہی واک اور نہ ہی ضلع کے کسی تحصیل اور یونین کونسل میں فری ملیریا چیک اپ اور میڈیسن کیمپ کا اہتمام ہوسکا ہے شہریوں کے مطابق کہ انہیں آج تک نہیں معلوم کے ملیریا کت ٹیسٹ کرنے والے سینٹر کہاں ہیں کے سول ڈسپنسریوں میں ملیریا کے کٹ تک پہلے تو موجود ہی نہیں ہیں اگر موجود ہیں بھی تو معیار یہ ہے کہ ٹیسٹ کرنے والے افراد میں ایک کٹ سے ٹیسٹ پازٹیو آتا ہے تو دوسرے میں کٹ سے منفی نتائج ملتے ہیں اس سے حال ہی میں کئی افراد جن کو ملیریا نہیں تھا مگر ٹیسٹ کیٹوں سے ان کے ٹیسٹ مثبت آئے ملیریا کے ادویات لینے سے انہیں یرقان مثبت آگیا ہے عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ ملیریا پروگرام کا کام کیا یہی ہے کہ وہ صرف آفس کی چار دیوری تک محدود رہے یا ضلع میں سروے کرکے رپورٹ یکجا کریں کہ ملیریا کیوں بڑھ رہا ہے اور روک تھام کے لئے بروقت اقدامات کیا کئے جاسکتے ہیں کوہلو میں رواں سال ملیریا کے مریضوں کی تعداد دوگنی ہونے کے باوجود مچھر دان بھی فراہم نہیں کئے گئے ملیریا پروگرام کے ایک سینئر شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کے بنا پر بتایا کہ ضلع سے جب کوئی رپورٹ ہیڈ آفس کو ارسال کی جائے گی کہ یہاں ملیریا کی کیا پوزیشن ہے اس کے بعد ہی ملیریا پروگرام اور محکمہ صحت کی ٹیمیں ضلع کو فالواپ دینگے مگر یہاں ضلعی آفس میں عوام کا درد رکھنے والا کوئی آفیسر موجود ہی نہیں ہے ضلع میں بڑھتے ہوئے ملیریا کے مریضوں کی تشویش ناک صورت حال کے حوالے سے جب این این آئی نے ملیریا پروگرام کے ضلع کوہلو کے کورڈنیٹر شاہ میر بلوچ سے رابطہ کیا تو انکا نمبر مسلسل بند جارہا تھا کوہلو کے عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ،بی آر ایس پی کے چیف ایگز یکٹیو آفیسر نادر گل بڑیچ ، ڈپٹی کمشنر کوہلو ممتاز علی کھیتران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملیریا پروگرام کی ضلع میں عدم دلچسپی اور ملیریا کے بڑھتے ہوئے مریضوں کی تشویشناک صورت حال پر فوری نوٹس لیں تاکہ اس وبائی صورت حال کا روک تھام ہنگامی بنیادوں پر ممکن ہوسکے ۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More