The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

کورونا کی پہلی لہر سے نکل چکے، سردیوں میں دوسری لہر کا خدشہ ہے، عمران خان … کورونا کی دوسری لہر سے بچنے کیلئے ہمیں بہت زیادہ احتیاط کی ضرروت ہے، اپوزیشن کے دباؤ میں آکرسخت … مزید

4

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 ستمبر2020ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کی پہلی لہر سے نکل چکے، سردیوں میں دوسری لہر آنے کا خدشہ ہے، کورونا کی دوسری لہر سے بچنے کیلئے ہمیں بہت زیادہ احتیاط کی ضرروت ہے، اپوزیشن کے دباؤ میں آکرسخت لاک ڈاؤن توبھارت سے بھی برے حالات ہوتے۔ نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سانحہ موٹروے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بچوں کے سامنے جو ہوا اس سے صدمہ پہنچا۔ جنسی زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دی جانی چاہیے۔ جنسی زیادتی کے مرتکب ملزمان کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ آئی جی کارکردگی دکھائیں گے تو عہدے پر رہیں گے۔ سی سی پی او پر بڑا شور برپا ہوا۔ عمر شیخ کو اس لیے تعینات کیا کہ پولیس قبضہ گروپوں سے ملی ہوئی تھی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ سندھ حکومت کا کیا مسئلہ ہے۔

کراچی میں ایسا لوکل سسٹم لانا چاہتے ہیں جس سے میئر آزادانہ منتخب ہو۔ منتخب میئر کو لانے سے کراچی کا مسئل حل ہوجائے گا۔ کراچی کو ٹھیک کرنا بہت ضروری ہے، کراچی صرف سندھ کا نہیں پاکستان کا انجن آف گروتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیٹف میں بلیک لسٹ ہوئے تو معیشت بیٹھ جائے گی۔ اپوزیشن نے سوچا کہ فیٹف کے معاملے پر یہ مان جائے گا لیکن میں بلیک میل نہیں ہوں گا۔ اپوزیشن نے ملک کو کنگال کیا پھر کہا کہ حکومت فیل ہوگئی ہے۔ مجھے کورونا وباء، فیٹف، اور معیشت پر بلیک میل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے اندر بھی کچھ لوگ موجود ہیں جو وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں۔ چیلنج کرتا ہوں کہ عثمان بزدار اور ہمارے وزراء نے کرپشن نہیں کی۔عثمان بزدار شہبازشریف کی طرح میڈیا پر پیسا نہیں لگاتا۔ عثمان بزدار کی کمزوری یہ ہے کہ وہ میڈیا پر بات نہیں کرسکتا۔ اس لیے اس کی پبلسٹی نہیں ہے، نوازشریف جب وزیراعلیٰ بنا تھا تو پریس کانفرنس نہیں کرسکتا تھا، جب تک وہ لفافہ نہیں دیتا تھا۔ لفافہ سیاست اس سے شروع کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف خود واپس نہیں آئیں گے، نواز شریف کو واپس لانے کیلئے پوری کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنقید بالکل ٹھیک ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جلدی جانا چاہیے تھا۔ ہماری کوشش تھی کی ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی نہ پڑے۔ ہمیں تھا کہ شاید دوست ممالک سے اتنا پیسا مل جائے گا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانے ضرورت نہ پڑے۔ دوست ممالک نے ہمیں جتنا پیسا دیا اس سے ہم دیوالیہ ہونے سے بچ گئے۔ ڈر تھا اگر پیمنٹس پر ڈیفالٹ کرجاتے تو روپیہ نیچے آجاتا۔ لوگوں میں صبر نہیں ہے لوگ چاہتے ہیں جلدی سے نیا پاکستان بن جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کی لہر سے نکل چکے ہیں، سردیوں میں دوسری لہر آنے کا خدشہ ہے، ہمیں بہت زیادہ احتیاط کرنے کی ضرروت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر پریشر تھا کہ سخت لاک ڈاؤن کروں اگر دباؤ میں آجاتا تو بھارت سے بھی زیادہ برے حالات ہوتے۔ ہم اسمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بچ گئے۔ 

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More