The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

کوئٹہ،آل پاکستان واپڈاہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین بلوچستان کے زیر اہتمام سیفٹی سیمینار کا انعقاد

6

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 16 ستمبر2020ء) آل پاکستان واپڈاہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین(سی بی ای) بلوچستان کے زیر اہتمام سیفٹی سیمینار کا انعقاد خورشید لیبر ہال کوئٹہ میں ہوا۔ اس سیمینار سے یونین کے مرکزی جوائنٹ صدر وصوبائی چیئرمین محمد رمضان اچکزئی، وائس چیئرمین عبدالباقی لہڑی، جوائنٹ سیکریٹری محمد یار علیزئی،محمد حیات محمد شہی، ہمایوں ترین، نور محمد پرکانی،عید محمد شاہوانی، بشیر احمد اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پورے ملک میں سیفٹی سیمینارزمنقعدکیے جارہے ہیںاور ان سیمینارز میں کمپنیوں کے اعلیٰ حکام کی شرکت بھی ہورہی ہے تاکہ مستقبل میں لائن اسٹاف کو دوران کام حادثات سے محفوظ بنانے کیلئے آگاہی کے ساتھ ساتھ ان کے جائز مسائل حل کیے جائیں اس سلسلے میں شرکاء نے حادثات کی مختلف وجوہات بیان کیں جس میں بجلی کی لائنوں کا ڈرائینگ اور ڈیزائن کے مطابق نہ ہونا، ایک ہی پول پر ڈبل و ٹرپل فیڈرزکی موجودگی، خستہ حال کنڈکٹر، ناکارہ پی سی سی پولز اورڈی فیوزکا ٹوٹ جانا، معیاری ارتھنگ سیٹ، ٹی اینڈ پی اور پی پی ای کی کمی، سیڑھیوں، بکٹ گاڑی اورلیڈر فٹڈ گاڑیوں کی کمی، کھمبوں، ٹرانسفارمروں اور لائنوں کی ارتھنگ نہ ہونا، سیفٹی کوڈ پر عملدرآماد نہ کرانا، جاب بریفنگ نہ دیا جانا، سپروائزری اسٹاف کی سائٹ پر عدم موجودگی، پی ٹی ڈبلیوکے ذریعے شٹ ڈائون کے بجائے موبائل فون پر شٹ ڈائون لینا، سرکلوں میں قائم سیفٹی کمیٹیوں کی غیرفعالیت، ایچ ٹی اور ایل ٹی پولز پر پی ٹی سی ایل اور ٹی وی کے غیر قانونی کیبل اور بوسٹر کی موجودگی، غیر قانونی ڈپلیکیٹ سپلائی چلانا، چین پلی کے ذریعے چالو لائینوں پر ٹرانسفارمرز لگانا اور اتارنا، لائن اسٹاف کی کمی اور کام کی زیادتی، لائن اسٹاف کی مناسب طریقے سے ٹریننگ نہ ہونا، سب ڈویژن میں لائنوں اور صارفین کی تعداد میں اضافے کے بعد نئے سب ڈویژنز قائم نہ کرنا، لاء اینڈ آرڈرزکی خراب صورتحال یا سیاسی دبائو کی وجہ سے عجلت اور تیز رفتاری سے کام کروانا، آفیسروں کی طر ف سے بلاوجہ شو کازنوٹسز کا اجراء، کارکنوں کی معطلی و برخاستگی، میٹر بلندی پر لگے ہونے یا بجلی کی بندش کے دوران ڈیجیٹل میٹرز سے جگاڑ کے طریقے سے ریڈنگ لینا، غفلت ، لاپرواہی اور عدم توجہی سے کام کرنا، ایچ ٹی اور ایل ٹی لائنوں کو ارتھ کیے بغیر کام کرنا، کیسکوکی لائنوں پر ہزاروں غیر قانونی ٹیوب ویلوںکی لائنیں غیر معیاری سامان کے ذریعے بچھانا، جی ایس سی میں بڑے بڑے شہتیر کے ذریعے ٹرانسفارمروں کی تنصیب، گرڈ اسٹیشن کی چالو حالت میں کیبلوںپر کام کرنا، سب ڈویژنز میں لائن اسٹاف کی ماہانہ سیفٹی پریڈ نہ کرنا، ڈپٹی ڈائریکٹر سیفٹی کے دفتر میں لائن مینوں کو سیفٹی آلات دیے جانے کا ریکارڈ نہ رکھنا، ڈپٹی ڈائریکٹر سیفٹی کا سب ڈویژنز میں جاکرسیفٹی آلات کا معائنہ نہ کرنا، غیر مجاز اسٹاف(اسسٹنٹ لائن مین) کا لائنوں پر کام کرنا، ناقص لائن میٹریل ، غیر معیاری ٹی اینڈ پی اور پی پی ای کی خریداری، آفیسروں کی عدم توجہی اور کیسکو کی گائیڈ لائن کے مطابق کام نہ کرنا، سب ڈویژنز میں لائن سپرنٹنڈنٹ کی ٹی اینڈ پی پر ذمہ داریاں نہ لگانا اور حادثات رونماء ہونے کے بعدانکوائری کمیٹی میں سی بی اے یونین کا نمائندہ شامل نہ کرنا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے حادثات کی روک تھام کیلئے تجاویز پیش کیں کہ جی ایس او کے تمام ایگزیکٹو افسران گرڈ اسٹاف کو اس بات کا پابند بنائیں کہ PTWکے بغیرکسی فیڈر کو موبائل فون پر بندنہ کریں اور نہ ہی کام کے بعد موبائل فون کے ذریعے فیڈر کوچالو کیا جائے جب تک کہ متعلقہ لائن سپرنٹنڈنٹ خود موجود نہ ہو، کنڈکٹر ، پی سی سی پولز، ڈی فیوز کے معیار کوبہتر بنایا جائے، گرڈ اسٹیشن پرپاور ٹرانسفارمرزنصب کرتے وقت احتیاطی تدابیراختیار کرتے ہوئے بریکر اور آئیسولیٹر بند کیے جائیں، لائنوں پر کام کے دوران ہنسی مذاق ، گپ شپ ، موبائل فون اور غیر سنجیدہ رویے سے پرہیز کروایا جائے،تمام ٹی اینڈ پی اور پی پی ای آئٹمز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جائے اور کوالٹی چیک کیلئے یونین کی نمائندگی بھی ضروری قرار دی جائے، کیسکو کے تمام متعلقہ آفیسرز جن میں سپرنٹنڈنگ انجینئرز، ایگزیکٹو انجینئرز، سب ڈویژنل آفیسرز شامل ہیں سیفٹی کلچر کو فروغ دینے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔اور کیسکو پالیسی کے مطابق سیفٹی سیمینارز باقاعدہ طور پر منعقد کیے جائیں اور سیفٹی کمیٹیاں فعال کی جائیں، ٹی وی کیبلز، بوسٹر، آپٹک فائبراور پی ٹی سی ایل کی تاریں کیسکو کے کھمبوں سے اتاری جائیں،لائن اسٹاف کی کمی کو پورا کیا جائے جو لائن اسٹاف ڈیسک جاب کررہے ہیں انہیں فوری طور پر ان کے اصل کام پر لگایا جائے، ڈپلیکیٹ سپلائی اگر کہیں پر بھی ہے ان کو فوراً ختم کیا جائے اور جو صارفین جنریٹر استعمال کرتے ہیں انہیں چیک کرکے بیک فیڈ کو ختم کیا جائے، لائنوں اور صارفین کی تعداداور علاقے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے نئے سب ڈویژنز قائم کیے جائیں، حادثات کی انکوائری کمیٹی میں سی بی اے یونین کا نمائندہ شامل کیا جائے اورانکوائری کے بعد جو لوگ ملوث پائے جائیں انہیں رولز کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے اور ضرورت ہوتو ان کے احتساب کیلئے نئے قوانین بنائے جائیں، ڈپٹی ڈائریکٹر سیفٹی کو فیلڈ میں کام کرتے ہوئے لائن اسٹاف کو رینڈم چیک کرنا چاہیے اور سیفٹی کوڈز کی خلاف ورزی کرنے والے اسٹاف کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، غیر مجاز اسٹاف (اسسٹنٹ لائن مین)کو لائن پر کام کرنے سے سختی سے منع کیا جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزا دی جائے، تمام ٹی اینڈ پی اور پی پی آئٹمز خصوصاً لائن مین یونیفارم، سیفٹی بوٹ، حفاظتی دستانے مہیا کرنے کیلئے ہنگامی اقدام اٹھائے جائیں، سیفٹی ٹریننگ کے معیار اور معیادکو بڑھایا جائے، سب ڈویژنز کی سطح پر ایک ایک بکٹ گاڑی اور لیڈر فٹڈ گاڑی مہیا کی جائے، شہروں خصوصاً کوئٹہ میں چھوٹے چھوٹے ٹرانسفارمر رکھنے کے بجائے بڑی استعداد کے ٹرانسفارمر لگا کر صارفین سے شیئرنگ کاسٹ لے کر ان کو بجلی مہیاکی جائے، بلاوجہ ٹی آف کاٹنے کے سلسلے کو بند کرنا چاہیے اورحادثات کی روک تھام کیلئے کیسکو انتظامیہ اور اور سی بی اے یونین کے مابین جلد از جلد سیفٹی میٹنگ کا اہتمام کیا جائے جس میں شرکاء سیمینار کی پیش کی گئیں سفارشات پر فیصلے کیے جائیں۔مقررین نے کیسکو انتظامیہ سے امید اکااظہار کیا کہ وہ کمپنی کے معاملات میں بہتری کیلئے اپنے کارکنوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کریں گے،مفت خوراہلکاروں کو کام پر لگائیں گے اور اِدھر ُادھر دفتروں میں بیٹھے کارکنوں کو اپنی ڈیوٹی پر لگاکر کام کرنے والے لائن مینوں سے کام کا بوجھ کم کرکے ان کی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نی55سال سے اوپر کے لائن مینوں کو ڈینجر الائونس کی ادائیگی کرنے، ڈپلومہ ہولڈر ALM, LM-II, LM-II, ASSAاور SSA کو ان کے کوٹے پر ترقیاں دینے، تمام کیٹگریز کے ملازمین کی اپ گریڈیشن اور پرموشن کویقینی بنانے اور اسٹاف کی کمی کو پورا کرکے مزدوروں کے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کیسکو انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ سینئر افسروں کی جگہ جونیئر افسروں کی تعیناتیاں ختم کرکے کرپشن کے راستے بند کرے۔اس موقع پر تما م عہدیداروں اور کارکنوں نے عہد کیا کہ وہ کیسکو میںبجلی چوری روکنے اور بلوں کی ریکوری کیلئے محنت و ایمانداری سے کام کرکے ادارے کو نجکاری سے محفوظ بنائیں گے۔اس موقع پر جنرل منیجر کیسکو ظہور احمد شیخ اور چیف انجینئر اختر علی ڈوگر نے بھی خطاب کیا جس میں انہوں نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیسکو چوہدری محمد عارف کی طرف سے مزدوروں کو یقین دلایا کہ کیسکو کے مزدوروں کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ لائن اسٹاف کیسکو کا اثاثہ ہے جن کی جانوں کی حفاظت سے کیسکو کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے گا۔انہوں نے یقین دلایا کہ پی پی ای اور ٹی اینڈ پی کی فراہمی کو ہر صورت میں پورا کیا جائے گا تاکہ مزدور مطمئن حالات میں رہ کر اپنی جانوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ادارے کی کارکردگی اور صارفین کی خدمات کیلئے کام کرسکیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More