The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کا بھارتی ریاست تری پورہ میں صحافیوں پر حملوں کی تحقیقات کا مطالبہ

6

نیو یارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 17 ستمبر2020ء) آزادی اظہار اور صحافیوں کے حقوق کیامریکی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس ( سی پی جی) نے بھارتی ریاست تری پورہ میں کووڈ۔ 19 سے نمٹنے میں حکومتی ناکامیوں سے متعلق تحقیقاتی رپورٹس کی اشاعت کے بعد صحافیوں اور اخبارات پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے ۔ ایک بیان میں سی پی جے نے وزیر اعلیٰ بپلاو دیو سمیت ریاستی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ آزادی اظہار کے خلاف اقدامات سے باز رہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کی مکمل تحقیقات کرتے ہوئے صحافتی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔واضح رہے کہ 11 ستمبر کو وزیر اعلیٰ بپلاو دیو نے اپنے ٹویٹ میں صحافیوں سے متعلق اپنے ریمارکس میں لکھا تھا کہ تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی اور میں بھی انہیںمعاف نہیں کروں گا جبکہ اخباری رپورٹ کی اشاعت کے اگلے دن نامعلوم افراد نے تریپورہ کے ضلع ڈھلائی میں بنگالی زبان کے روزنامہ سیاندن پتریکا کے رپورٹر پارشر بسواس کو ان کے گھر پر زدوکوب کیا۔

(جاری ہے)

13 ستمبر کو مغربی تریپورہ کے ضلعی مجسٹریٹ اور کلکٹر شیلندر یادو نے بنگالی اخبار ڈائنک سبباد کو قانونی نوٹس بھجوایا جس کا سی پی جے جائزہ لے رہا ہے۔ سی پی جے کی ایشیا کی سینیئر محقق عالیہ افتخار نے ایک بیان میں کہا کہ ریاستی وزیر اعلیٰ کے منفی ریمارکس کے بعد صحافیوں پر تشدد ہوا اور انہیں دھمکایا گیا۔ تری پورہ حکومت کو آزادی صحافت کا وعدہ نبھاتے ہوئے صحافی پارشر بسواس پر حملے کی مکمل تحقیقات کرنی چاہئیں۔ اخبار کے ایڈیٹر سبل کمارڈے نے ٹیلی فون پر سی پی جے کو بتایا کہ صحافی بسواس کے سر اور چہرے پر زخم آئے جس پر انہیں ہسپتال لے جایا گیا اور اب اُن کا سی ٹی اسکین ہوگا، بسواس کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی، اس پر حملے میں بی جے پی کے ارکان ملوث ہیں۔ سی پی جے نے کہا کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس راجیو سنگھ نے واقعہ پر اب تک اپنا موقف دیا ہے نہ ہی تاحال کوئی گرفتاری عمل میں لائی ہے ۔ مقامی صحافتی تنظیم تریپورہ اسمبلی آف جرنلسٹس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ریاست بھر میں صحافیوں کو دھمکیوں اور حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ تنظیم نے بتایا کہ 12 ستمبر کو سات سے آٹھ افراد نے جنوبی تریپورہ میں مقامی چینل نیوز ٹوڈے اور تریپورہ خبر اخبار کے رپورٹر اشوک داس گپتا کو اس وقت دھمکیاں دیں جب وہ علاقے میں پانی کی قلت کے بارے میں رپورٹنگ کررہے تھے۔ حملہ آوروں نے انہیں دبوچا اور موبائل فون چھیننے کی کوشش کی۔ سی پی جے کا کہنا ہے کہ کووڈ ۔ 19 کی وبا پھیل جانے کے بعد سے اترپردیش ، ہماچل پردیش ، مغربی بنگال ، اور تامل ناڈو کی ریاستوں سمیت ہندوستان بھر میں صحافیوں کے خلاف گرفتاریوں ، قانونی نوٹسوں اور پولیس کارروائیوں کا سلسلہ بڑھ گیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More