The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے لاہور اور اسلام آباد دفاترکا اہم ریکارڈ قبضے میں لے لیا

8

پیر ستمبر
14:18

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 14 ستمبر2020ء) شوگر انڈسٹری میں ممکنہ کمپٹیشن مخالف سرگرمیوں پر جاری تحقیقات کے پسِ منظر میں کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے پیرکوپاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم ای) کے لاہور اور اسلام آباد کے دفاترکا سرچ انسپکشن اور اہم ریکارڈ قبضے میں لے لیا ۔ سی سی پی نے کمپٹیشن مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے ٹھوس معلومات کی بنیاد پرکمپٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعہ 34 کے تحت اپنے افسران کو پی ایس ایم اے کے دفاتر کی تلاشی اور اہم ریکار ڈ کے معائنے کا اختیار دیا۔ چند اہم کمپٹیشن مخالف سرگرمیوں میں شامل تمام شوگر ملوں کا ایک ساتھ کرشنگ کا 2019-20 کے سیزن میں روکنا، اجتمائی طور پر چینی کی قیمتوں میں ایک ساتھ اضافہ کرنا ، اور یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن (یو ایس سی) کو چینی فراہی سے ایک ساتھ انکار کرنا ہے ۔

(جاری ہے)

کمیشن کی مجاز کردہ دو مختلف ٹیموں نے بیک وقت پی ایس ایم اے کے اسلام آباد اور لاہور کے دفاتر میں تلاشی لی اور متعلقہ ریکارڈ کو قبضے میں لے لیا۔

سی سی پی اپنے مختلف انفورسمنٹ آرڈرز کے ذریعے متعلقہ صنعت کی انجمنوں کو غیر مسابقتی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے متنبہ کرتا رہا ہے جس سے کمپٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔ ایک طے شدہ اصول یہ ہے کہ صنعتی انجمنوں اور اس کے ممبران ، جو دراصل حریف ہیں کو جان بوجھ کرحساس تجارتی اور کاروباری معلومات پر تبادلہ خیال یا ان کو آپس میں شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ صنعتی انجمنوں اور اس کے ممبران کی کاروباری پالیسی میں ہم آہنگی کرنا اور اہم کاروباری معلوما ت آپس میں شیئر کرنا کمپٹیشن ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ سی سی پی ، کمپٹیشن ایکٹ کے تحت اپنے قانونی مینڈیٹ کے مطابق ، معیشت کے تمام شعبوں میں کمپٹیشن مخالف تمام سرگرمیوں کو ختم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More