The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

کراچی میں کیمیکل فیکٹری کے ٹینک میں ڈوب کر 6 مزدور جاں بحق … فیکٹری مالکان صحافیوں کو فیکٹری کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی

11

کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 اکتوبر ۔2020ء) سندھ کے دارالحکومت کراچی کی سائٹ ایریا چورنگی میں واقع کیمیکل کمپنی کے ٹینک میں کام کرتے ہوئے 6 مزدور ڈوب کر جاں بحق ہو گئے ہیں فیکٹری مالکان صحافیوں کو فیکٹری کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں. چھیپا ذرائع کے مطابق فیکٹری میں مزدور ٹینک کی صفائی کر رہے تھے کہ ٹینک میں ڈوب گئے مزدوروں کو تشویشناک حالت میں ٹینک سے نکال کر عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اس سے قبل کراچی کے علاقے سائٹ ایریا میں غنی چورنگی کے قریب رنگ ساز فیکٹری میں آگ لگ گئی.

(جاری ہے)

رنگ ساز فیکٹری میں لگنے والی آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیا گیا ہے اور آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں طلب کر لی گئی ہی چند روز قبل سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقہ بفر زون میں واقع گھر میں آتشزدگی سے جھلسنے والی دو بچیاں جاں بحق ہو گئیں. ذرائع مطابق گھر میں آگ یو پی ایس میں الیکٹرک شارٹ سرکٹ کے باعث لگی شارٹ سرکٹ کے باعث ہونے والی آتشزدگی سے جاں بحق ہونے والی بچیاں بہنیں تھیں. واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے میں فشریز کے پی ٹی بلڈنگ یارڈ میں آگ لگنے کے باعث کروڑوں روپے مالیت کی لانچیں راکھ کا ڈھیر بن گئیں تھیں فشریز کے پی ٹی بوٹ بلڈنگ یارڈ میں لگی آگ پر 5 گھنٹے بعد قابو پالیا گیاتھا. کے ایم سی، کے پی ٹی اور پاک نیوی کے فائر ٹینڈرز نے آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لیاآتشزدگی کے باعث کروڑوں روپے مالیت کی8 لانچیں جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئیں آگ زیر تعمیر لانچوں میں لگی تاہم کھلا مقام ہونے کی وجہ سے ہوا کے سبب آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے اردگرد موجود دیگر لانچوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا. لانچ کے مالک کا کہنا تھا کہ فائربریگیڈ مبینہ طور پر تاخیر سے پہنچی جو آگ پھیلنے کا سبب بنا آگ لگنے کی وجہ معلوم نہ ہو سکی جبکہ فائر بریگیڈ حکام کا کہنا تھا کہ کولنگ کے عمل کے بعد ہی نقصان کا تخمینہ لگایا جا سکے گا دوسری جانب علاقہ مکینوں نے قریب موجود آئل ڈپو مالکان کے خلاف احتجاج بھی کیا. ان کا کہنا تھا کہ رہائشی علاقے میں مبینہ طور پر غیر قانونی آئل ڈپو بنایا گیا ہے جسے بااثر افراد چلاتے ہیں جو آگ لگنے کا سبب بنتا ہے آئل ڈپو میں تیسری بار آگ لگ چکی ہے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More