The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

کراچی ریفرنڈم ، عوام کی زبردست شرکت کے باعث چند دن کا اضافہ کیا جاسکتا ہے،حافظ نعیم الرحمن … کراچی ریفرنڈم میں وکلا کی شرکت قابل ستائش ہے،کراچی میں از سر نو مردم شماری … مزید

8

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 17 اکتوبر2020ء) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی کی تعمیر و ترقی میں ہی ملک کی ترقی اور خوشحالی ہے ، وکلا کی جانب سے ریفرنڈم میں ووٹ کاسٹ کرناقابل ستائش ہے، تین روزہ ریفرنڈم میں عوام کی غیر معمولی دلچسپی اور زبردست شرکت کے باعث چند دن کا اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے ، ریفرنڈم کے بعد حکمران دیکھ لیں گے کہ کراچی جاگ چکا ہے،رائے دہی کے عمل میں جوان، بوڑھے، خواتین، وکلاء،صحافی، علماء ، اساتذہ، ڈاکٹر، انجینئر، طلباو طالبات ، مزدور، سول سوسائٹی اور ہر طبقہ فکر سے وابستہ افراد حصہ لے رہے ہیں ، ریفرنڈم کے مطالبات عوام کے ترجمان اور مسائل حل ہونے کی ضمانت ہیں ۔ ان خیالات کا اظہا رانہوں نے جماعت اسلامی کی ’’حقوق کراچی تحریک‘‘ اور’’کراچی ریفرنڈم‘‘ کے سلسلے میں سٹی کورٹ میں وکلا سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

ملاقات میںسابق صدر کراچی بار نعیم قریشی ایڈووکیٹ،صلاح الدین ایڈووکیٹ،عبدالصمد خٹک ایڈووکیٹ،شعاع البنی ایڈووکیٹ،شاہد علی خان ایڈووکیٹ،عثمان فاروق ایڈوکیٹ ، ول فورم کی طلعت یاسمین ،نائب امراء جماعت اسلامی کراچی راجہ عارف سلطان ،مسلم پرویز ، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری سمیت دیگر عہدیداران موجود تھے ۔

ملاقات میں شہری مسائل کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرمرد و خواتین وکلا نے بڑی تعداد میں کراچی ریفرنڈم میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی سے پیسے لینے کیلئے تو اپنا حق جتاتی ہے ، لیکن کراچی کی تعمیر و ترقی پر خرچ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ، ن لیگ کے دور میں ہونے والی مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ظاہر کی گئی اور شہریوں سے ان کا جائز حق چھینا گیا ، لیکن پی ٹی آئی نے بھی اقتدار میں آنے کے بعد دوبارہ مردم شماری نہیں کرائی ، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جماعتیں کراچی کو اس کے حق سے محروم رکھنا چاہتی ہے ، اس مسئلے کو تین سال گزر گئے لیکن ابھی تک کراچی کی صحیح آبادی کا تعین نہیں ہو سکا ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل کراچی میں ہنگامی بنیادوں پر از سر نو مردم شماری کی جائے، حکومت، اداروں اور اختیارات کی بندر بانٹ کی وجہ سے شہریوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے ، کراچی میں بااختیار شہری حکومت ہی تمام مسائل کا حل ہے ، کوٹہ سسٹم ختم کرکے کراچی کے شہریوں کو میرٹ کی بنیاد پر ملازمتیں دی جائیں،کے الیکٹرک تمام بڑی جماعتوں کی پشت پناہی سے اجارہ دار ادارہ بن گیا ہے ،لیکن جماعت اسلامی کراچی کے مجبور و مظلوم عوام کے ساتھ ہے، وفاقی حکومت کے الیکٹرک کو بھاگنے کا موقع فراہم کررہی ہے ،کے الیکٹرک کو کسی صورت فرار ہونے نہیں دیا جائے گا، کے الیکٹرک کے سابق سی ای او تابش گوہر وزیر اعظم کے مشیر برائے توانائی بنانے کا مقصد کے الیکٹرک کوکے لئے راہ ہموار کرنا ہے ، کے الیکٹرک کے مالکان سے تمام بقایاجات لیے جائیں ، الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرکے اسے قومی تحویل میں لیا جائے، فارنزک آڈٹ کیا جائے اور ٹیکنیکل افراد پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More