The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

چیف کورٹ گلگت بلتستان ماڈل کورٹ بن چکی ہے ، جسٹس ملک حق نواز

10

گلگت۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 18 اکتوبر2020ء) : چیف جسٹس چیف کورٹ گلگت بلتستان جسٹس ملک حق نواز نے کہا ہے کہ چیف کورٹ گلگت بلتستان ماڈل کورٹ بن چکی ہے، 5کے مقابلے میں 2ججز ہونے کے باوجود تاریخی کیسز نمٹائے۔ چیف کورٹ میں صرف 9 کریمنل مقدمات باقی رہ گئے ہیں، اگلے ماہ کریمنل مقدمات صفر ہوں گے،سروسز ٹریبونل ایکٹ کے تحت چیف جسٹس چیف کورٹ سے سروسز ٹریبونل کے چیئرمین اور ممبران کی تقریری کے لئے مشاورت لازمی ہے، مشاورت نہیں کی گئی تو ایسی تمام تعیناتیاں اور تقرریاں غیر قانونی تصور ہوں گی اور اس کی سمری بھیجنے والے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کے وکلائ میں لائسنس تقسیم کرنے کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ملک حق نواز نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جوڈیشل مجسٹریٹس کی تعیناتی کے لئے سمری بھیجی گئی ہے ،اس کی منظوری ملنے کے بعد تعیناتیاں عمل میں لائیں گے ،نومبر کے پہلے ہفتے میں چیف سیکرٹری اور سیکرٹری فنانس کو طلب کرکے گلگت بلتستان بار کونسل کے فنڈز اور عمارت کا مسئلہ حل کریں گے ،فنڈز میں جونیئرز زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے نئے لائسنس لینے والے وکلائ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جونیئرز محنت کریں، وکالت کا شعبہ محنت کا شعبہ ہے ہماری طرف سے بھر پور تعاون جاری ہے، بنچ اور با ر ملکر عوام کو انصاف کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ انصاف فراہم کیا جا سکے۔چیف جسٹس نے کہا کہ گلگت بلتستان کی عدلیہ مثالی ہے اور ایک بھی جج ایسا نہیں جس پر مالی بے ضابطگیوں کا الزام لگا ہو، چند ایک ججز سفارش سنتے ہیں لیکن انہیں بھی سختی سے ہدایت کی ہے ، اگست میں 266اور ستمبر میں 343 کیسزنمٹائے جو تاریخ کے سب سے زیادہ کیسز ہیں، تمام ماتحت عدالتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تاریخ پر تاریخ دینے والا سلسلہ بند کریں اور کیسز کو فوری نمٹائیں، رٹ پٹیشن دو ماہ میں نمٹانے کا حکم دیا ہے تاکہ عوام کو سستا اور فوری انصاف مل سکے ہمیں معلوم ہے کہ دور دراز کے علاقوں سے آنے سائلین کیسز کی سماعت کے لئے نماز فجر کے وقت گاڑی میں بیٹھتے ہیں اور دن بھر عدالت کے باہر انتظار کرتے ہیں اس لئے عوام کی سہولت کے لئے عدالت 9بجے لگاتے ہیں اور 12بجے 70 سی80 کیسز نمٹادیتے ہیں تاکہ غریب لوگ بروقت اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔چیف جسٹس نے لائسنس حاصل کرنے والے وکلائ کوہدایت کی کہ لائبریری میں بیٹھ کر کیسز کے حوالے سے بات چیت کریں، کتابیں پڑھیں اور پوری تیاری کریں۔ قبل ازیں سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور علی خان نے تقریب سے خطاب کرتے ینگ لائرز کو لائسنس ملنے پر مبارکباد دی اور کہا ہے کہ وکالت عظیم پیشہ ہے،اس پیشے کو صرف کمائی کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ غریب لوگوں کی خدمت کو بھی شعار بنائیں اور ان کی تکالیف کو دور کرنے میں مدد دیں۔اس موقع پرسابق وائس چیئرمین گلگت بلتستان بار کونسل منظور احمد ایڈوکیٹ نے وکلائ کو کوڈ آف کنڈکٹ کے حوالے آگاہی دی۔تقریب کے اختتام پر وائس چیئرمین بار کونسل جاوید اقبال نے اختتامی کلمات پیش کئے اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More