The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

چیف جسٹس گلگت بلتستان چیف کورٹ جسٹس ملک حق نواز سے ڈائریکٹر جنرل شریعہ اکیڈمی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی ملاقات

5

گلگت (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 15 ستمبر2020ء) چیف جسٹس گلگت بلتستان چیف کورٹ جسٹس ملک حق نواز اور جسٹس علی بیگ سے ڈائریکٹر جنرل شریعہ اکیڈمی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر محمد مشتاق احمد کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں چیئرمین ٹرینگ شریعہ اکیڈمی ڈاکٹر حبیب الرحمن کے بھی شامل تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس ملک حق نواز نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں اس عدلیہ کا چیف جسٹس ہوں جس کے ماتحت تمام عدالتیں انصاف کی فراہمی اور قانون حکمرانی کے لئے کام کر رہی ہیں اور سفارش اور کرپشن سے مکمل پاک ہونے کا علاوہ خودمختاری کے اصولوں پر عمل پیرا ہیں۔ عوام کو گھر کی دہلیز پر بروقت انصاف کی فراہمی ہماری اولین ذمہ داری ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ معاشرے کے غریب، معذور اور بے سہارا لوگوں کے مقدمات میرٹ اور ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لئے خصوصی احکامات دے دیئے ہیں تاکہ مظلوم لوگوں کو بروقت انصاف مل سکے اور ان کے بنیادی حقوق محفوظ رہنے کے ساتھ معاشرے سے امتیازی سلوک کا خاتمہ ہو سکے۔

جسٹس ملک حق نواز نے مزید کہا کہ چیف کورٹ میں ججز کی کمی اور عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث شدید مشکلات کے باجود ایس او پیز کے ساتھ گزشتہ 2 ماہ میں 488مقدمات نمٹا دئیے ہیں، ماتحت عدالتوں کے انتظامی امور کی خود نگرانی کر رہا ہوں اور ماتحت عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات میں14دن سے زائد تاریخ نہ دینے پر سختی سے پابندی عائد کررکھی ہے اور خلاف ورزی پر کارروائی کے احکامات دے دیئے ہیں تاکہ دور دراز علاقوں سے مقدمات کی پیروی کے لئے آنے والے لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو اور وہ تاریخ کی پرچی کے بجائے فیصلہ لے کر گھر جائیں۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ چیف کورٹ میں دائر رٹ پیٹشن 2 ماہ میں نمٹانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور اس امر کو یقینی بنانے کے لئے چیف کورٹ میں زیر سماعت مقدمات میں 2 صورتوں میں تاریخ مل سکتی جج یا وکیل فوت ہو جائے ورنہ بے جا تاریخ کی ہر گز اجازت نہیں ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل شریعہ اکیڈمی اسلامک یونیورسٹی ڈاکٹر محمد مشتاق احمد نے چیف جسٹس کو شریعہ اکیڈمی اور ججز کی تربیتی ورکشاپس پر بریفنگ دی جسے چیف جسٹس نے قبول کرلیا۔ محمد مشتاق احمد نے چیف کورٹ اور ماتحت عدلیہ میں فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے لئے چیف جسٹس ملک حق نواز کے کردار کو سراہتیہوئے کہاکہ عدل وانصاف کی فراہمی کے لئے چیف کورٹ اور ماتحت عدالتیں پاکستان کے دیگرصوبوں کے لئے رول ماڈل ہیں۔ ڈاکٹر مشتاق نے چیف جسٹس کو شریعہ اکیڈمی کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے استدعا کی کہ شریعہ اکیڈمی میں گلگت بلتستان کی ماتحت عدلیہ کے ججز کو تربیت کے لئے نامز د کریں اور باہمی تعاون کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ ملاقات کے اختتام پر چیف جسٹس ملک حق نواز اور جسٹس علی بیگ کو شریعہ اکیڈمی کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل اور چیئرمین ٹریننگ نے سونیئر پیش کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More