The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

پ*پہلی حکومت ہے جس نے 72سے 73ارب روپے خرچ کئے ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان … ش*بلوچستان میں پہلی مرتبہ اسکیمات کے پروسس کو بہتر بنانے کیلئے بل پاس کیاہے ?ڈی ایس سی اور پی ڈبلیو … مزید

7

ش*بلوچستان میں پہلی مرتبہ اسکیمات کے پروسس کو بہتر بنانے کیلئے بل پاس کیاہے
?ڈی ایس سی اور پی ڈبلیو ڈی پی کے بغیرکوئی بھی منصوبہ پی ایس ڈی پی کاحصہ نہیں بنے گا،منظوری کے بغیر ماضی میں نہ کسی منصوبے کی اجازت دی تھی اور نہ ہی آئندہ دیںگے
۔سردعلاقوںکیلئے منظوری کے ساتھ ڈبل الیوکیشن رکھ رہے ہیں تاکہ جلد سے جلد منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایاجاسکے،جام کمال خان

پیر ستمبر
22:30

ڑ*کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 14 ستمبر2020ء) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ یہ پہلی حکومت ہے جس نے 72سے 73ارب روپے خرچ کئے ہیںبلوچستان میں پہلی مرتبہ اسکیمات کے پروسس کو بہتر بنانے کیلئے بل پاس کیاہے ،ڈی ایس سی اور پی ڈبلیو ڈی پی کے بغیرکوئی بھی منصوبہ پی ایس ڈی پی کاحصہ نہیں بنے گا،منظوری کے بغیر ماضی میں نہ کسی منصوبے کی اجازت دی تھی اور نہ ہی آئندہ دیںگے ،سردعلاقوںکیلئے منظوری کے ساتھ ڈبل الیوکیشن رکھ رہے ہیں تاکہ جلد سے جلد منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایاجاسکے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے بلوچستان اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کہاکہ سریاب کے حلقوں سے اپوزیشن ارکان منتخب ہوئے ہیں جہاں سب سے بڑی آبادی ان کے ووٹرز کا ہے ،یہ روڈ کسی پارٹی ،جماعت یا کارکن کا نہیں ہے یہ عوام کی سہولت کیلئے ہے ،میں خود پروسس کے حق میں ہوں اور کوئی بھی کام پروسس کے بغیر نہیں ہوناچاہیے ،ہم نے پروسس کو ایک حد تک بہتر کیاہے اس حوالے عدالت عالیہ کے احکامات بھی موجود ہیں بلوچستان کی تاریخ میں وہ فنانشل بل کی منظوری دی گئی ہے جو ملک کے کسی بھی صوبے میں نہیں ہے ،وفاق کے بعد بلوچستان ہے جنہوں نے یہ بل منظور کیااگلے سال پی ایس ڈی پی میں کوئی بھی اسکیم جس کی ڈی ایس سی اور پی ڈبلیو ڈی پی نہیں ہوگی وہ اسکیم پی ایس ڈی پی کا حصہ نہیں بنے گااس کابہت بڑا فائدہ ہم سب کو ہوگا،بلوچستان میں دوبڑے سیزن جو زیادہ چلتے ہیں جہاں سردی کاموسم ہو لیکن سرداری زیادہ نہیں پڑتی لیکن ایک بہت بڑا حصہ ایسا ہے جس میں زیارت،کان مہترزئی،پشین ،مسلم باغ، کوئٹہ ،سوراب،خضدار ،قلات اور مستونگ وہ علاقے ہیں جہاں ٹھنڈ کے موسم میں تعمیرات کاکام نہیں ہوسکتا کیونکہ موسم سرد ہوتاہے ،انہوں نے کہاکہ ہم اگر دو سے تین ماہ ڈی ایس سی اور پی ڈبلیو ڈی پی میں لگا لیتے ہیں تونومبر کامہینہ قریب آتاہے ان علاقوں میں تین سے چار ماہ رہ جاتے ہیں اور پھر یہ کام مارچ میں شروع ہوتاہے جس کی وجہ سے کام کیلئے تین سے چار ماہ رہ جاتے ہیں اور پھر مئی جون قریب آتاہے جس کی وجہ سے سرد علاقے رہ جاتے ہیں لیکن اس بار ہم نے پروسس کومختلف کردیا ،پالیسی کے تحت ٹھنڈ علاقوں کی الیوکیشن اور اتورائزیشن دوسرے علاقوں کی نسبت ڈبل رکھ رہے ہیں تاکہ کنٹریکٹرز کو کام کیلئے زیادہ وقت مل سکیں اور جلد سے جلد کام مکمل کریں اور پھر سرد مہینوں میں اگر کام نہ بھی ہو تو ٹھیکیدار ڈبل کام کرچکاہو،میں یقین دہانی کراتا ہوں کہ ہم نے نہ ماضی میں کبھی کوئی کام منظوری کے بغیر کام کیاہے اور نہ ہی آئندہ کرینگے ،بغیر منظوری کے کوئی بھی اسکیم چاہے وہ جاری ہو یا نیا اسکیم منظوری فائنل کے بعد پلاننگ کمیشن اور فنانس تک کیلئے نہیں جاتی ،ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنے اسٹینڈرڈ کو برقراررکھیں یہ پہلی حکومت ہے جس نے 72سے 73ارب روپے خرچ کئے ہیں

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More