The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

پشاور ہائیکورٹ کی ضلعی انتظامیہ کو مضرصحت اشیا فروخت کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت

12

بدھ ستمبر
21:27

پشاور۔16 ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 16 ستمبر2020ء) پشاور ہائیکورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو مضرصحت اشیا فروخت کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کرنیکی ہدایت کرتے ہوئے شیرفروشوں اور ہوٹلوں کے دورے کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیئے کہ دودھ اور دیگر خوراک کی اشیاء میں ملاوٹ بہت سنجیدہ مسئلہ ہے، بڑے ریسٹورنٹس میں غیرمعیاری خوراک لوگوں کو کھلایا جارہا ہے دوسرے صوبوں سے مرغیاں منگوائی جاتی ہے جو میڈیا میں بھی نظر آتے ہیں انتظامیہ مضر صحت اشیا فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرے اور ایسے افراد کیساتھ کوئی نرمی نہ بھرتی جائے۔دودھ کی قیمتیں مقرر نہ کرنے والوں کیخلاف دائر درخواست کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس قیصر رشید اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

(جاری ہے)

درخواست گزار ڈیری فارم ایسوسی ایشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر پشاور اور ڈیری فارم کے عہدیداروں کے مابین مذاکرات میں نرخ نامہ مقرر ہوا تھا تاہم انتظامیہ اب اسکا اعلامیہ جاری نہیں کررہاہے۔

ضلعی انتظامیہ ہمیں دودھ سستا فروخت کرنیکا کہہ رہے ہیں جس میں انکا نقصان ہے کیونکہ وہ تازہ دودھ فروخت کرتے ہیں اور سستا دودھ فروخت نہ کرنے والوں کیخلاف کاروائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ضلعی انتظامیہ کو شیر فروشوں کیخلاف کارروائی سے روکا جائے جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیئے کہ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ ایک اہم مسئلہ ہے آج کل دودھ میں مختلف کیمیکل ملائے جاتے ہیں دیکھنے میں اچھا لگتا ہے لیکن صحت کیلئے ٹھیک نہیں ہوتا۔ دودھ کا مقدار بڑھانے کیلئے جانوروں کو انجیکشن لگائے جاتے ہیں جبکہ بڑے بڑے ہوٹلوں میں غیرمعیاری خوراک لوگوں کو کھلایا جارہا ہے ،انتظامیہ اگر ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرے تو ہم اس کو سراہتے ہیں جو لوگ عوام کے صحت کیساتھ کھیلتے ہیں ،انتظامیہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ فاضل بنچ نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ دودھ فارمز اور ہوٹلوںکا دورے کرکے اگلی پیشی پر جامع رپورٹ عدالت میں جمع کریں۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More