The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

پاک فوج کا مذاق اڑانے پر قید اور جرمانے کے لیے بل قومی اسمبلی میں پیش … شق کے تحت جو کوئی بھی پاکستان کی مسلح افواج یا اس کے کسی رکن کا ارادتاً تمسخر اڑاتا ہے اسے 2 سال قید … مزید

1

اسلام آباد (اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 16 ستمبر 2020ء) پاک فوج کا مذاق اڑانے پر قید اور جرمانے کے لیے بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں فوجداری قانون ترمیمی بل پیش کر دیا گیا جس میں فوج کا مذاق اڑانا یا بدنام کرنا جرم قرار دیے جانے کی تجویز کی گئی ہے۔گذشتہ روز قومی اسمبلی میں مسلح افواج کے ارادتاً تمسخر اڑانے کا بل فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ 2020ء پیش کردیا گیا۔ منگل کو قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین امجد علی خان نے یہ بل ایوان میں پیش کیا۔ اس بل کے تحت ایکٹ نمبر 45 بابت 1860ء میں دفعہ 500 کے بعد نئی دفعہ 500 الف شامل کی گئی ہے جس کا عنوان مسلح افواج وغیرہ کا ارادتاً تمسخر اڑانا ہے۔ اس شق کے تحت جو کوئی بھی پاکستان کی مسلح افواج یا اس کے کسی رکن کا ارادتاً تمسخر اڑاتا ہے‘ وقار کو گزند پہنچاتا ہے یا بدنام کرتا ہے وہ ایسے جرم کا قصوروار ہوگا جس کے لئے دو سال سزائے قید یا پانچ لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔

(جاری ہے)

اس ترمیم کا مقصد مسلح افواج کے خلاف نفرت انگیز اور گستاخ رویے کا سدباب کرنا ہے۔ مسلح افواج کے ادارے کی ساکھ کو گزند پہنچانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔اس ترمیمی بل پر ابھی بحث ہونا باقی ہے۔قبل ازیں قومی اسمبلی نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020 منظور کیا۔بل ایجنڈہ میں شامل نہیں تھاتحریک کے ذریعے بل کو ایجنڈہ میں شامل کیا گیاضمنی ایجنڈہ کے طور پر بل لانے پر اپوزیشن ارکان نے بھرپور طریقے سے احتجاج کیا۔ ترمیم کے تحت تفتیشی طریقہ کار میں نئی تکنیکس استعمال کرنے کی شق شامل کی گئی ہے ۔ تفتیشی افسر عدالت کی اجازت سے 60 دن میں بعض تکنیکس استعمال کر کے دہشت گردی میں رقوم کی فراہمی کا سراغ لگائے گا ،ان تکنیکس میں خفیہ آپریشنز ، مواصلات کا سراغ لگانا ، کمپیوٹر سسٹم کا جائزہ لینا شامل ہے، بل کے مطابق عدالت کو تحریری درخواست دے کر مزید ساٹھ دن کی توسیع حاصل کی جا سکتی ہے،

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More