The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

پاک سرزمین اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا سیفی ٹیکنکل کالج میں داخلہ سیشن برائے کے حوالے سے طلبا کے اندر موجود تذبذب پر اظہارِ تشویش

16

ہفتہ اکتوبر
21:29

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 17 اکتوبر2020ء) پاک سرزمین پارٹی کی طلبہ تنظیم پاک سرزمین اسٹوڈنٹس فیڈریشن (پاکستان)کے صدر انجینئر سید عثمان کا کراچی کے ضلع وسطی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں موجود سیفی ٹیکنکل کالج میں داخلہ سیشن برائے 2020-2021 کے حوالے سے طلبا کے اندر موجود تذبذب پر تشویش کااظہار کیاہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کراچی میں ضلع وسطی 2017 کی مردم شماری کے مطابق دوسرا بڑا ضلع شمار کیا جاتا ہے جس کی آبادی تقریبا لاکھ سے بھی زائد ہے جس کے اندر نوجوانوں کا تناسب دوسرے اضلاع سے کئی زیادہ پایا جاتا ہے اس اعداد و شمار کے مطابق کراچی کے ضلع وسطی میں کم از کم سے ٹیکنکل کالجز کا قیام آبادی کے لحاظ سے ہونا چاہئیے تھا مگر عرصہ دراز سے ضلع وسطی میں صرف 2 ٹیکنکل کالجز ہی قیامِ عمل میں موجود ہیں جس کے اندر سالانہ 1150 نشستیں مختص کی جاتی ہیں جس میں 600 مورننگ اور 550 نشستیں ایوننگ سیشن پر مشتمل ہوتی ہیں جس میں سے صرف سیفی کالج میں ہی 800 نشستیں سالانہ مختص کی جاتی ہیں جس میں 350 مارننگ اور 450 ایوننگ شامل ہیں مزید اس رواں سال 2020 میں کرونا (عالمی وبا)کے باعث کراچی میں سائنس گروپ سے میٹرک کے امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبہ و طالبات کی تعداد 168,880 ہے نیز داخلے کے شروعات میں ہی ہمیں طلبہ و طالبات کی جانب سے شکایتیں موصول ہونا شروع ہوگئی تھیں کے سیفی کالج کی انتظامیہ نے RD STEVTA کمال مصطفی کی ہدایت پر اخبارات میں اشتہارات اور پروسپیکٹس میں نشستیں ہونے کے باوجود داخلہ لینے سے کالج کی انتظامیہ کو روک دیا ہے اسی سلسلے میں پاک سرزمین اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے اعلی سطح وفد نے گزشتہ روز STEVTA کے چیئرمین سلیم رضا جلبانی صاحب سے ملاقات کی اور ان کو اس معاملات سے آگاہ بھی کیا جس پر کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔

(جاری ہے)

پاک سرزمین اسٹوڈنٹس فیڈریشن وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ صاحب سمیت تمام اعلی حکام سے یہ اپیل کرتی ہے کے اس مسئلے پر جلد از جلد نوٹس لیا جائے ورنہ ہم ہر طرح سے طلبہ و طالبات کے حق کے لیے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More