The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

پاکستان کا 5اگست کے موقع پر جاری کیا گیا نقشہ اقوام متحدہ کی قرارداوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے عین مطابق ہے … بھارت ایس سی او سلامتی کونسل کے فورم پر بھی تنہائی کا شکار … مزید

13

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 16 ستمبر2020ء) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ددول کے واک آئوٹ اور سیاسی نقشے پر اعتراض کو مسترد کر تے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا 5اگست کے موقع پر جاری کیا گیا نقشہ اقوام متحدہ کی قرارداوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے عین مطابق ہے، ہندوستان کو شاہد علم نہیں تھا کہ ایس سی او فورم دوطرفہ ایشوز کو ڈیل نہیں کرتا بلکہ یہاں پر علاقائی کنیکٹیوٹی ، معاشی سلامتی اور آگے بڑھنے کے لئے تعاون اور نئے مواقع پر بات ہوتی ہے ، پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے ہم نہیں چاہتے کہ خطے کے امن کو لڑائی یا جنگ سے نقصان پہنچے لیکن اگر ایک ملک اپنے تمام ہمسایوں سے لڑائی مول لینے پر تلا ہو تو ایسے میں امن یا بات چیت کا کوئی راستہ نہیں بچتا ، روس کو اعتماد میں لیکر پاکستان نے ہندوستان کی شکایت پر جوابی خط میزبان ملک کو بھجوایا ہے ،ایس سی او سلامتی کونسل کے فورم پر بھی بھارت تنہائی کا شکار ہوچکا ہے یہ ہی پاکستان کی جیت ہے، ہندوستان کے سلامتی امور کے مشیر کا واک آئوٹ پاکستان کی تقریر کے بعد روس کی تقریر کے دوران بھی جاری رہا، میزبان ملک کی تقریر کے آخری لمحات میں شرمندگی کے ساتھ ہال میں داخل ہونا سب نے دیکھا ہے ۔

(جاری ہے)

پی آئی ڈی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے بتایا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی قومی سلامتی ایڈوائزر سمٹ آج منعقد ہوئی ،یہ اجلاس اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کے لئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حالیہ روس کا دورہ کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس سمٹ سے تین روز قبل 11ستمبر کو میزبان ملک روس کی جانب سے تمام ممبر ممالک کے تکنیکی گروپ کے ساتھ ٹیکنالوجی ٹیسٹ کروائی گئی ، دیگر تمام ممالک کی طرف ہمارے تکنیکی گروپ نے اپنے کمیٹی روم میں ٹیکنالوجی ٹیسٹ میں حصہ لیا ، ہمارے دفتر میں 5اگست یوم استحصال کے موقع پر جاری کیا گیا پاکستان کا سیاسی نقشہ عقب میں آویزاں تھا ، بھارت نے روس کو اس کی باضابطہ شکایت درج کرائی کہ ٹیکنالوجی ٹیسٹ کے دوران پاکستان کا سیاسی نقشہ کیوں آویزاں تھا، گذشتہ رات میزبان ملک نے اس حوالے پاکستان آگاہ کیا جس پر پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے ٹھوس جواب دیا گیا کہ پاکستان کا سیاسی نقشہ اقوام متحدہ کی قرارداوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہے ، یہ ہمارا قانونی حق ہے، دراصل ہندوستان نے غیر قانونی اقدام اٹھاتے ہوئے مبقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کی ہے ۔ قومی سلامتی کے معاون ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ اجلاس میں رکن ممالک کے حروف تہجی کے مطابق بات کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، آئی کا لفظ پہلے آنے پر ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے پہلے بات کی اور جب میری باری آئی اجیت ددول واک آئوٹ کر گئے ، ہندوستان کی اتنی ہی ذہینت اور سوچ ہے، ایک ایسے فورم جہاں پر معاملات سلجھائے جاتے ہیں وہاں ہندوستان کی ایسی حرکت نے حیران کر دیا ۔ انہوں نے دو ٹوک میں پاکستان کا موقف پیش کیا کہ پاکستان ہر فورم پر فخریہ انداز میں اپنا نقشہ ایسے ہی آویزاں کرتا رہے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت ایس سی او کے فورم پر بھی تنہائی کا شکار رہا ، دیگر رکن ممالک میں سے کوئی بھی ملک اس واک آئوٹ کا حصہ نہیں بنا ، فورم میں ہندوستان کی واحد کرسی تھی جو خالی نظر آرہی تھی اور میزبان ملک کی تقریر کے دوران بھی خالی تھی تاہم آخری لمحات میں شرمندگی کے ساتھ واپسی کو سب نے دیکھا ، اس فورم پر بھی بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان سی پیک کے ذریعے خطے میں روابط قائم کر نے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور معاشی سلامتی کے لئے بھی اپنا بھرپور کردار ادا رہا ہے، کاسا منصوبہ ، تاپی منصوبہ ، ٹیپ منصوبہ یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان امن کے ساتھ کھڑا ہے ، پاکستان نے ہمیشہ ایس سی او فورم کی مدد کی ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس طرح کامیابی حاصل کی ہے اس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی ، دنیا ہم سے سبق سکھے ، پاکستان اپنے تجربات شیئر کرنے اور تعاون کے لئے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ پاکستان کے بغیر ممکن نہیں تھے ، افغانستان کا حل افغانستان کے اندر ہی موجود ہے ، فیصلہ افغان عوام نے کرنا ہے پاکستان اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More