The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری 50.7 فیصد 20کروڑ ڈالر سے زیادہ کمی … گزشتہ سال کے 38کروڑ 35 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں سرمایہ کاری کم ہو کر 18کروڑ 90 لاکھ ڈالررہ گئی ہے. سٹیٹ بنک … مزید

19

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 اکتوبر ۔2020ء) پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سالانہ بنیادوں پر 50.7 فیصد کم ہوکر گزشتہ سال کے 38کروڑ 35 لاکھ ڈالر سے کم ہو کر 18کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہو گئی سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میںمجموعی طور پر رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 24فیصد کی کمی واقع ہوئی جبکہ اس کے مقابلے میں مالی سال 21 کے پہلے دو ماہ میں 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا.

(جاری ہے)

سٹیٹ بینک کے اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ مالی سال 2021 میں جولائی سے ستمبر کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو کر 41 کروڑ 57 لاکھ ڈالر ہو گئی جبکہ گزشتہ مالی سال اسی دورانیے میں یہ سرمایہ کاری 54 کروڑ 55 لاکھ ڈالر تھی اور اس لحاظ سے 23.8فیصد کمی واقع ہوئی. براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری پہلے ہی کم تھی کیونکہ غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم کم تھا جو پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی کم دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 40 فیصد بڑھ گئی تھی لیکن جولائی میں یہ تقریباً فلیٹ رہی تھی تاہم ستمبر میں آنے والی رقوم اگست میں موصول ہونے والی 11کروڑ 23لاکھ ڈالر سے زیادہ تھی. تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ چین کی سرمایہ کاری گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں دگنی رہی، مالی سال 21 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ملک کو 10کروڑ 36 لاکھ ڈالر موصول ہوئے جبکہ اس کے مقابلے میں پچھلے مالی سال کی رقم 5کروڑ 54 لاکھ ڈالر تھی، چین پچھلے کچھ سالوں میں سب سے بڑا سرمایہ کار رہا ہے. تاہم گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ناروے سے آنے والی آمدنی نے مجموعی طور پر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا تھا کیونکہ ملک میں 24 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ مال سال 21 کی پہلی سہ ماہی میں یہ سرمایہ کاری محض 3کروڑ ڈالر تھی ہانگ کانگ سے کی جانے والی سرمایہ کاری پہلی سہ ماہی کے دوران بڑھ کر3 کروڑ 84 لاکھ ڈالرز ہو گئی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں یہ صرف 69 لاکھ ڈالرز تھی. مالٹا سے ہونے والی سرمایہ کاری دونوں مالی سالوں کی پہلی سہ ماہی کے دوران5 کروڑ 56لاکھ ڈالرز رہی گزشتہ مالی سال میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2کروڑ 65 لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی جو اس سال کم ہو کر ایک کروڑ 89لاکھ ڈالرز رہ گئی. دوسری جانب نیدرلینڈز سے آنے والی سرمایہ کاری بڑھ کر 4 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز ہو گئی جبکہ گزشتہ سال اسی دورانیے میں ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی تھی مالی سال 21 کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی توجہ کا محور بجلی کا شعبہ تھا جس نے گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 3کروڑ 23 لاکھ ڈالرز کے مقابلے میں اس سال 11کروڑ 33 لاکھ ڈالرز وصول کیے. ایک اور پرکشش شعبہ مالی کاروبار (بینک) تھے جہاں گزشتہ سال 3 کروڑ 7 لاکھ ڈالرز کے مقابلے میں اس سال 10کروڑ 25لاکھ ڈالرز وصول کیے گئے تاہم سرمایہ کاری میں سب سے زیادہ کمی مواصلات کے شعبے میں دیکھنے کو ملی جس میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 30 کروڑ 74لاکھ ڈالرز کی آمدنی کے مقابلہ میں اس سال صرف 3کروڑ 75لاکھ ڈالرز موصول ہوئے. درحقیقت یہ ٹیلی مواصلات کا شعبہ تھا جس کو سب سے بڑا دھچکا لگا کیونکہ اس شعبے کو گزشتہ مالی سال میں 2کروڑ 60 لاکھ ڈالرز موصول ہوئے جبکہ پچھلے مالی سال میں 29 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز موصول ہوئے تھے تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں بھی بہتری آئی ہے کیونکہ گزشتہ مالی سال کے 3کروڑ 98 لاکھ ڈالرز کے مقابلے میں اس سال 6کروڑ 72لاکھ ڈالرز موصول ہوئے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More