The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

پاکستان میں سیلاب کی روک تھام کے لئے آبی ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہے ، چینی پروفیسر ژو رونگ

4

بیجنگ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 14 ستمبر2020ء) پاکستان میں سیلاب کی روک تھام کے لئے آبی ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہو گئی ہے ۔ متاثرہ علاقوں میں ابتدائی انتباہی نظام اور پانی ذخیرہ کرنے کی سہولیات میں اضافہ کرنا ہو گا کیونکہ سیلابی صورتحال سے ہر سال نہ صرف ملکی برآمدات کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ قیمتی جانیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔رینمن یونیورسٹی آف چائنہ کے چنگ یانگ انسٹیٹیوٹ آف فنانشل سٹڈیز کے سینئر فیلو پروفیسر ژو رونگ کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں ہمیں دو پہلوؤں سے کام شروع کرنا ہو گا۔ پہلا یہ کہ انتباہی نظام کا ابتدائی طور پر آغاز کر دیا جائے اور دوسرا سیلابمتاثرہ علاقوں میں پانی محفوظ کرنے کی زیادہ سہولیات ہونی چاہیں ۔ چائنہ اکنامک نیٹ (سی ای این) میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دریائے سندھ میں پانی کے بہائو ،اخراج کے علاوہ پورے سندھ طاس میں شمسی توانائی پر تحقیقی کام کرتے ہوئے اعداد و شمار پر مبنی معلومات کا نظام لانا ہو گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسا خصوصی نظام ہونا چاہئے جو یہ پتہ چلائے کہ بارش کہاں کہاں ہوگی اور کتنی ہو گی ،کس علاقیمیں کتنا پانی جمع ہوگا اور دریائوں میں پانی کی یومیہ صورتحال کیا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکموں کو چاہئے کہ وہ اس طرح کانظام جلد از جلد فعال کریں تاکہ ملک کسی بین الاقوامی مدد کے بغیر سیلابی صورتحال پر قابو پا سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو نہ صرف بارش بلکہ غیر معمولی طوفانوں سے متعلق بھی بہت درست انداز میں پیشگوئی کرنا ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے محکمہ موسمیات کو ایسا خصوصی نطام کار یا آلہ تیار کرنا ہوگا جس میں ممکنہ سیلاب ، اس کے مقام ، شدت اور دریائے سندھ سے منسلک دریائوں پر اس کے ممکنہ اثرات کی تمام معلومات موجود ہیں اور جنہیں روزانہ کی بنیاد پر محکمہ کی ویب سائٹ پر ڈاؤن لوڈ کیا جاتا رہے۔ پروفیسر رنگ نے کہا کہ پیشگی انتباہ جاری ہونے پر دریائوں کے حفاظتی پشتوں کو بچایا جا سکتا ہے ، آبی ذخائر اور ڈیموں کو بوقتِ ضرورت خالی کیا جاسکتا ہے ، بیراجوں کو مزید تقویت مل سکتی ہے اور پشتے ٹوٹنے کی صورت میں محفوظ منتقلی کے لئے علاقہ کے مکینوں کو چوکس کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس انتہائی ترقی یافتہ ریور مینیجمنٹ سسٹم موجود ہے ۔اگرچہ ڈیموں اور بیراجوں کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں موجود پانی کے انفراسٹرکچر کو اچھی طرح سے چلانے کے لئے چین کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کو پاکستان کے لئے خوشخبری قرار دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں حکومت نے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے چائنا پاور کے ساتھ 442 بلین کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ چینی فرم منصوبے کو فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ساتھ مل کر انجام دے رہی ہے جس میں چینی فرم کا حصہ 70 فیصد جبکہ ایف ڈبلیو او کا 30 فیصد ہے۔21 میگاواٹ تانگیر پن بجلی پروجیکٹ کی تعمیر بھی معاہدے میں شامل ہے۔ یہ ڈیم پاکستان کی بڑھتی ہوئی پانی اور بجلی کی ضروریات پوری کرے گا ۔ 1406.5 بلین روپے کا یہ پروجیکٹ 2028 ء میں مکمل ہونا ہے۔منصوبے کی ذخیرہ کرنے کی مجموعی گنجائش 8.1 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) ، پیداواری صلاحیت 4500 میگا واٹ اورسالانہ پیداوار 18.1 بلین یونٹ ہوگی جبکہ الیکٹرو مکینیکل اور بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ بعد کے مرحلے میں الگ سے شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیم صنعتی ترقی کے لئے سستی توانائی فراہم کرے گا اور اس سے سندھ کی 1.23 ملین ایکڑ بنجر زمین سیراب ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ 272 میٹر اونچائی اورآٹھ ایم اے ایف آبی ذخیرہ کے باعث یہ دنیا کا سب سے لمبا رولر کمپیکٹ کنکریٹ (آر سی سی) ڈیم ہو گا جس میں ایک اسپل وے ، 14 دروازے اور پانچ آئوٹ لیٹس جبکہ ایک ایک کلومیٹر طویل دو سرنگیں اور نہر بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم مسلمہ عالمی معیارات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے اور ہمیں توقع ہیکہ زیادہ سے زیادہ ڈیموں کی تعمیر مستقبل میں پاکستان کو سیلاب اور بارشوں کے نقصانات سے بچائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More