The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

پاکستان میں دل کی بیماریوں سے اموات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے … ملک میں 29 فیصد اموات دل کے امراض کے سبب ہو رہی ہیں پاکستان میں دل کی بیماریوں کے سبب بننے والے مقامی … مزید

13

کراچی۔16 ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 16 ستمبر2020ء) پاکستان میں دل کی بیماریوں سے اموات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں 29 فیصد اموات دل کے امراض کے سبب ہو رہی ہیں، بدقسمتی سے پاکستان میں دل کی بیماریوں کے سبب بننے والے مقامی عوامل پر کوئی تحقیق نہیں کی گئی، ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں مقامی ڈیٹا اکٹھا کیا جائے اور تحقیق کی جائے تاکہ لوگوں کو دل کے امراض سے ہونے والی اموات سے بچایا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار معروف ماہرین امراض قلب اور طبی سائنسدانوں نے پاکستان میں دل کے امراض کے حوالے سے ریسرچ کرنے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد کیا۔ کراچی میں پاکستان کارڈیک سوسائٹی (پی سی ایس)اور ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزر بورڈ(ہیلتھ ریب)کے مابین 5 ویں کارڈیالوجی ریسرچ ایوارڈز(سی آر ای)کی مفاہتی یادداشت پر دستخط کیے گئی- معاہدے کے مطابق امراض قلب کے شعبے میں تحقیق کرنے والے تین نوجوان ڈاکٹروں کر بہترین تحقیقی مقالے اور پوسٹر پیش کرنے پر بالترتیب دو لاکھ، ایک لاکھ اور 75 ہزار روپے انعام نام دیا جائے گا۔

(جاری ہے)

مفاہمتی یادداشت پر ہیلتھ ریب کے وائس چیئرمین پروفیسر عبدالباسط اور پاکستان کاریڈک سوسائٹی کے صدر پروفیسر ہارون اے کے بابر نے دستخط کیے۔ ہیلتھ ریب کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ذکی الدین، ہیلتھ ریب کے محسن علی شیراز بھی اس موقع پر موجود تھے۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے ماہرینِ امراض قلب نے کہا کہ پاکستان میں 2015 تک سالانہ ڈھائی لاکھ افراد دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے تھے جو کہ ملک بھر میں ہونے والی اموات کا 19 فیصد تھا مگر عالمی ادارہ صحت کے مطابق صرف تین سالوں میں دل کی بیماریوں کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب یہ شرح 29 فیصد ہوگئی ہے جو کہ سالانہ چار لاکھ 6ہزار 870 اموات تک جاپہنچی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم دل کی بیماریوں کی وجہ سے سالانہ لاکھوں جانیں گنوا رہے ہیں اور پاکستان میں متعدی امراض میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے مگر ان بیماریوں کے حوالے سے مقامی عوامل کے متعلق تحقیق نہ ہونے کے سبب ان کی روک تھام میں انتہائی شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ پاکستان کارڈیک سوسائٹی (پی سی ایس)کے صدر پروفیسر ہارون اے کے بابر نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دل کی بیماریوں کے اسباب، ان کے عوامل اور مروجہ رجحانات پر تحقیق شروع کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کارڈیالوجی ریسرچ ایوارڈ (سی آر ای)ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کا ایک اچھا قدم ہے، جو پاکستان کارڈیک سوسائٹی کے ساتھ مل کر نوجوان ماہرین امراض قلب کو تحقیقی کام کرنے اور ملکی سطح پر نوجوان ڈاکٹروں میں مقابلے کا رجحان پیدا کرنے والا اہم پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ریسرچ ایوارڈ کے اجراء نے پاکستان میں صحت کے شعبے میں تحقیق کو فروغ دیا ہے۔پروفیسر ہارون بابر نے پاکستان میں کارڈیالوجی کے شعبے میں تحقیق کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا اور ہیلتھ ریب اور مقامی دواساز کمپنی فارمیوو کی جانب سے گزشتہ چار سال سے سالانہ ریسرچ ایڈوائزی ایوارڈ کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایوارڈ ان چند پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے جو نوجوان امراض قلب کے ماہرین کو تحقیق کے لیے متحرک کرتے ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ نوجوان ماہرینِ امراض قلب نے جو تحقیق اور اعداد و شمار جمع کیے ہیں ان سے ہم ہزاروں پاکستانیوں کو دل کے امراض سے بچانے میں کامیاب ہوں گے۔ معروف محقق اور ممتاز عالمی ماہر ذیابیطس پروفیسر عبدالباسط نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں غیر متعدی بیماریوں پر تحقیق کرنے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ ملک میں طب اور سرجری کے ہر شعبے میں قابل اعتماد اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، ہیلتھ ریب صحت کے شعبے میں تحقیق کو فروغ دینے والے اداروں میں سے ایک ہے، ہیلتھ ریب کو 2016 میں پہلے ایوارڈ کے لیے 18 اور 2019 میں چوتھے ایوارڈ کے لیے 89 تحقیقی مقالے موصول ہوئے تھے جو اس منصوبے کی مجموعی کامیابی کو ظاہر کرتے ہیں۔ڈاکٹر ذکی الدین احمد نے کہا کہ ہیلتھ ریب گذشتہ 4 سال سے ریسرچ ایڈوائرزی ایوارڈ منعقد کررہی ہے اور یہ ریسرچ بورڈ کے ایک اہم منصوبے میں شامل ہوچکا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More