The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

پاکستان میں اسلامی بینکاری کے نظام کے فروغ کے لئے سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں … اسلامک فنانسنگ کی بنیاد صرف لین دین پر نہیں بلکہ صلہ رحمی پر ہے اہل فکر و دانش کو منافع کی … مزید

3

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 14 ستمبر2020ء) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری کے نظام کے فروغ کے لئے سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں، اسلام کسی بھی شعبے میں استحصال کی اجازت نہیں دیتا، صرف منافع کمانا ہی ترجیح نہیں ہونا چاہیے، ایلیٹ ازم (خواص کی حکمرانی کے دستور پر اعتقاد) معاشروں کو گھن کی طرح کھا رہا ہے، اسلام میں ایلیٹ ازم کا تصور نہیں ہے، کووڈ۔19 مالیاتی منڈیوں کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے، اسلامک فنانسنگ کی بنیاد صرف لین دین پر نہیں بلکہ صلہ رحمی پر ہے، خواتین اور کمزور طبقات کے لئے بینکنگ اور فنانسنگ کی سہولیات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدر مملکت نے پیر کو 10 ویںگلوبل اسلامک فنانس ایوارڈز کی تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

صدر مملکت نے کہا کہ اس تقریب کا انعقاد خوش آئند ہے اس کے ذریعے اسلامک فنانسنگ کے شعبہ میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اسلامی بینکاری اور مالیاتی نظام کو وسعت مل رہی ہے۔ پاکستان میں اسلامی بینکاری کے نظام کے فروغ کے لئے بھی سجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں۔ پاکتسان میں 17 فیصد بینکاری اسلامی قوانین کے مطابق ہو رہی ہے، اسلامک فنانسنگ کا حصہ گلوبل فنانسنگ میں کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک اور دیگر ادارے اسلامی بینکاری کو ترقی دینے کے لئے کوشاں ہیں۔ عوام میں بھی اس حوالے سے کافی آگاہی پائی جاتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ اسلامک فنانسنگ کے شعبے میں کافی کام کیا گیا ہے لیکن یہ ایک وسیع شعبہ ہے جس میں بہتری لانے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ۔19 کی صورت میں بینکاری نظام کے اوپر بہت دبائو آیا اور مالیاتی منڈیوں کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ صرف لین دین اسلامک فنانسنگ کی بنیاد نہیں بلکہ اسلامک فنانسنگ کی بنیاد صلہ رحمی پر ہے۔ حکومت کے احساس پروگرام کی بنیاد بھی اسی پر رکھی گئی ہے۔ اسلام ایک ایسے معاشرے اور مالیاتی نظام کا خواہاں ہے جہاں معاشرتی انصاف، مساوات، برابری اور شفافیت موجود ہو ۔ سماجی اور معاشی ترقی کے لئے دولت کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔ کاروبار ی سرگرمیوں میںمنافع کے ساتھ اخلاقیات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کسی بھی شعبے میں استحصال کی اجازت نہیں دیتا ۔ اسلامی معاشرے میں ایلیٹ ازم بڑھنے کا کوئی تصور نہیں۔ ایلیٹ ازم معاشروں کو گھن کی طرح کھا رہا ہے۔ تعلیم کا شعبہ بھی اس کا شکار ہے۔ اسلام کی آمد نے عرب کے ایلیٹ کلچر کو چیلنج کی اور انسانوں کی برابری کا تصور دیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ کاروباری اداروں کو صرف منافع کمانے کے اصول پر نہیں ہونا چاہیے۔ ناانصافی معاشرے میں خرابی پیدا کرتی ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا، اسی طر ح جو کاروبار معاشرے کے لئے مفید نہیں اس کی بھی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ صدر مملکت نے منافع کی حد کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اہل فکر و دانش کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام معاملات کو ہمدردی سے چلانے اور کمزروں کا خیال رکھنے کی ضرورت پر دیتا ہے۔ خواتین اور کمزور طبقات کے لئے بینکنگ سہولیات میں اضافہ کیا جائے۔ بالخصوص ڈیجیٹل اکانومی کے ذریعے بھی انہیں مستفید کیا جائے۔ انہوں نے علمائے کرام پر زور دیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے اور وراثت کے حوالے سے ان سے انصاف کرنے کے لئے آگاہی پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اور ریاست مدینہ کی روح یہ ہے کہ غریب کو ترقی کے مواقع فراہم کئے جائیں جبکہ دیگر معیشتوں کا تصور مختلف ہے۔ ریاست مدینہ کے اس تصور کی جانب پیشرفت کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More