The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا مقصد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنا تھا ،ہندوستان ہمیں بلیک لسٹ میں دھکیلنا چاہتا ہے … وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس … مزید

13

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 16 ستمبر2020ء) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا مقصد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنا تھا جبکہ ہندوستان ہمیں بلیک لسٹ میں دھکیلنے کے درپے ہے۔ بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ سپیکر نے رولز کے مطابق اپوزیشن کو پورا موقع دیا، اپوزیشن نے پہلی مرتبہ فیٹف پر بات نہیں کی ان کا شروع سے دوہرا معیار رہا ہے، پہلے اپوزیشن کہتی رہی کہ وہ ملکی مفاد میں اس پر قانون سازی کیلئے تیار ہے، مذاکرات میں ان کی طرف سے جو قابل عمل تجاویز سامنے آئیں ہم نے حتی الوسعی کوشش کی کہ ان تجاویز کو قانون میں پرو دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج صبح سینٹ میں ایک بل جاتا ہے اور اپوزیشن سٹینڈنگ کمیٹی میں اس بل کے حق میں ووٹ دیتی ہے اسی اثناء میں ایک فون کال موصول ہونے پر سینٹ کے فلور پر اس بل کی مخالفت کی جاتی ہے، کیا یہ دوہرا معیار نہیں وزیر خارجہ نے کہا کہ آج کے مشترکہ اجلاس کا مقصد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنا تھا جبکہ ہندوستان ہمیں بلیک لسٹ میں دھکیلنے کے درپے ہے، آج قوم نے اس حوالے سے واضح فیصلہ کرنا تھا، ہم آج توقع کر رہے تھے کہ اپوزیشن ایک تعمیری کردار ادا کرے گی مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا، جب کوئی بل ووٹنگ کی سٹیج پر آ جاتا ہے تو اس پر تقاریر نہیں ہو سکتیں، اپوزیشن جب عددی برتری ثابت نہیں کر پائی تو انہوں نے معاملے کو گھسیٹنا شروع کر دیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بلاول نے جب ایوان میں بات کرنا چاہی تو ہم نے انہیں یہی کہا کہ آپ نے اگر کوئی ترمیم مووو کی ہے تو آپ بات کر سکتے ہیں ورنہ نہیں، جن لوگوں نے ترامیم مووو کی تھیں سپیکر انہیں بلاتے رہے لیکن وہ بدستور احتجاج کرتے رہے کیونکہ انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ وہ عددی اکثریت کھو چکے ہیں، میں ایوان کا، پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اور اپنے اتحادیوں کا بے حد شکر گزار ہوں کہ انہوں نے بھرپور انداز میں ہمارا ساتھ دیا اور ووٹنگ میں شریک ہوئے، آج پاکستان کی جیت ہوئی ہے، فیٹف کے اگلے اجلاس میں پاکستانی وفد انہیں بتا سکے گا کہ پاکستان نے ٹیرر فنانسنگ اور منی لاڈرنگ کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں اور اس سے یقیناً پاکستان کو فائدہ ہوگا، آج جس طرح اپوزیشن نے رخنہ اندازی کی کوشش کی، اگر مشترکہ اجلاس میں یہ قانون پاس نہ ہوتا تو کس کے ایجنڈے کو تقویت ملتی ہندوستان کو موقع ملتا اور مطلوبہ قانون سازی نہ کر سکنے پر ایشیاء پیسیفک اجلاس میں پاکستان کو سبکی کا سامنا کرنا پڑتا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More