The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

پارلیمان کی سپیشل کمیٹی بنائی جائے جس میں ایوان بالا کی بھی نمائندگی ہو، وہ کمیٹی سارا سال کام کرے، کسی سیاسی مصلحت کا شکار نہ ہوکر اس پر سخت قانون سازی کی جائے،سی سی پی … مزید

6

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 16 ستمبر2020ء) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ پارلیمان کی سپیشل کمیٹی بنائی جائے جس میں ایوان بالا کی بھی نمائندگی ہو، وہ کمیٹی سارا سال کام کرے‘ کسی سیاسی مصلحت کا شکار نہ ہوکر اس پر سخت قانون سازی کی جائے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں موٹروے واقعہ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ آج مجھے کوئی حکومت اور اپوزیشن نظر نہیں آرہی‘ آج مجھے صرف انسانیت سے محبت اور مظلوم سے ہمدردی کرنے والے نظر آئے۔ لاہور واقعہ کے درد کو سب نے محسوس کیا۔ سب اس پارلیمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ زینب کے والد سے ملا‘ وہ میرے سینے سے لگ کر روئے تو میں بتا نہیں سکتا کہ کیا جذبات تھے۔ ہم وہ لوگ ہیں جن کی طرف لوگ دیکھتے ہیں۔

(جاری ہے)

قرآن ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہے۔ قرآن میں اس کی سزا سزائے موت ہے۔ کاش کہ اس رات جب کال کی گئی تو وہ یہ نہ کہتے کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اس کو کہتے کہ آپ ریلیکس کریں۔

کس بات کی تنخواہ لیتے ہیں وہ۔ سی سی پی او کا بیان قابل شرم ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کو اس عہدے پر نہیں رہنا چاہیے۔ اس جرم کی سزا پھانسی ہونی چاہیے۔ قاتل کو تو ویسے بھی پھانسی ہے، ریپسٹ کو بھی پھانسی دینی چاہیے۔ وزیراعظم نے کابینہ میٹنگ میں کہا تھا کہ ایسے لوگوں کو سزائے موت دینی چاہیے۔ علی محمد خان نے کہا کہ ان چیزوں کا مستقل حل ہونا چاہیے۔ یہاں سے ہم ایک قرارداد پاس کر چکے تھے کہ بچوں سے زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی ہونی چاہیے۔ میری تجویز ہے کہ اس کے لئے ایک سپیشل کمیٹی برائے جنسی جرائم بنائی جائے‘ ایوان بالا سے بھی اس کو ممبر شپ دیں اور وہ کمیٹی سارا سال کام کرے۔ اس طرح کے مسائل جب بھی بنیں وہ سپیشل کمیٹی اس کا نوٹس لے۔ علی محمد خان نے کہا کہ مجھے تسلی ہوئی ہے کہ علماء کرام ‘ بچیاں اور بہنیں بھی مطالبہ کر رہی ہیں کہ جو لوگ ہماری طرف بری نظروں سے دیکھتے ہیں ایسے لوگوں کو لٹکایا جائے۔ کسی سیاسی مصلحت کا شکار نہ ہوں اس پر سخت قانون سازی کی جائے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ ریپسٹ کو سزائے موت دی جائے کیونکہ یہی ایک حل ہے۔ ننھی زینب کو شہید کیا گیا‘ جب کراچی میں مروہ کو شہید کیا جاتا ہے جب مردان میں اسماء کو شہید کیا جاتا ہے جب نوشہرہ‘ چارسدہ‘ لاہور کہیں بھی ننھی بچیوں کو شہید کیا جاتا ہے تو ایک آواز ضرور ان کی طرف سے آتی ہے‘ وہ وقت ننھی زینب نے آخری بار اپنی ماں کو جب پکارا ہوگا ‘ یا رب تیرا عرش بھی تو لرزا ہوگا۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اس پارلیمان میں ایسے مضبوط کام کر کے جائیں کہ ہماری ننھی بچیاں غیر محفوظ نہ ہوں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More