The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ْبھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیرمیںکشمیریوںکو کوئی بھی جمہوری حق حاصل نہیں ،رپورٹ

5

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 15 ستمبر2020ء) 15 ستمبرکو دنیا بھر میں جمہوری حالات کا جائزہ لینے کیلئے عالمی یوم جمہوریت کے طور پر منایا گیالیکن بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں عوام کو کوئی بھی جمہوری حق حاصل نہیں ۔عالمی یوم جمہوریت کے موقع پر کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے منگل کو جاری کی جانیوالی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نہ صرف بھارت میں جہاںنریندر مودی کی سربراہی میں ایک فسطائی حکومت قائم ہے بلکہ جموںوکشمیر میں جس پر بھارت نے تمام جمہوری اقدار اور بین الاقوامی قوانین کی خلا ف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طورپر قبضہ کر رکھا ہے، انسانی حقوق اور آزادیاں سلب ہیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آزادی اور انسانی حقوق کا احترام اور حق خودارادیت کا استعمال جمہوریت کا لازمی جزو ہے تاہم جموں و کشمیر میں ایساکچھ بھی موجود نہیں ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جمہوریت انسانی حقوق کے تحفظ اور احترام کیلئے فطری ماحول فراہم کرتی ہے جس کا اظہار انسانی حقوق کے یونیورسل ڈکلیئریشن اور شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی کنونشن میںکیاگیا ہے ۔

رپورٹ میں 10 دسمبر 1948 کو پیرس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے جاری کردہ انسانی حقوق کے یونیورسل ڈکلیئریشن کی بعض دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں بنیادی طور پر انسانی حقوق کی31آرٹیکلز کو شامل کیاگیا تھااورکہاگیا تھا کہ عالمی سطح پران کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ تاہم بھارت کی نام نہاد جمہوریت کے تحت کشمیری عوام کو ان میں سے کوئی بھی بنیادی حق حاصل نہیں ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مودی حکومت اپنی تمام تر فوجی طاقت کے بل پر جموںوکشمیرمیں جو کچھ کر رہی ہے وہ انسانی حقوق کے یونیورسل ڈکلیئریشن کے آرٹیکل 3کی صریحاًخلاف ورزی ہے ، جس میں کہا گیا ہے ، ہر شہری کو زندہ رہنے ، آزادی اور سلامتی کا حق حاصل ہے۔ اسی اعلامیے کے آرٹیکل 5 میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو ظلم و تشدد ، غیر انسانی یاتوہین آمیز سلوک یا سزا کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے ، تاہم حقیقت یہ ہے کہ بھارتی فورسز گزشتہ سال 5اگست کے بعد سے صرف ایک برس کے دوران 1480 سے زائد کشمیریوںکو بدترین ظلم و تشدد کا نشانہ بناچکی ہے جبکہ کشمیری فوٹو جرنلسٹ کامران یوسف سمیت تین صحافیوں کو منگل کو ضلع پلوامہ میں بھارتی فوجیوںکی محاصرے اورتلاشی کی کارروائی کی کوریج کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق بھارت نے اسی اعلامیہ کے آرٹیکل 9 کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے گزشتہ ایک برس سے زائد عرصے کے دوران 14ہزار40سے زائد کشمیریوںکو گرفتار کیاہے ۔ اس آرٹیکل کے تحت رکن ممالک کو کسی بھی شخص کو جبری طورپر گرفتار یا جلا وطن کرنے سے روکا گیا ہے ۔تاہم بھارت نے مقبوضہ علاقے میں اپنے فوجیوںکو نہتے کشمیریوںکو گرفتار اور قتل کرنے کی کھلی چھوٹ دینے کیلئے آرمڈ فورسز اسپیشل پاور زایکٹ جیسے کالے قوانین نافذ کر رکھے ہیں ۔رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے ہمہ گیر اعلامیے کے آرٹیکل 21کی ذیلی شق 3میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے درمیان تعلق کو اجاگر کیاگیا ہے ۔ جس کے مطابق عوام کی خواہشات حکومت کے اختیار کی بنیاد ہوگی۔ اس کا اظہار وقتا فوقتا منعقد کرائے جانیوالے حقیقی انتخابات کے ذریعے آزادانہ حق رائے دہی کے عمل کے ذریعے کیا جائے گا ۔رپورٹ میں بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیر کے بارے میں کہاگیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوںکے مطابق کشمیری عوام کی خواہشات جاننے کیلئے رائے شماری منعقد کرائی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرسکیں تاہم بھارت نے ہمیشہ کشمیری عوام کو اپنے اس بنیادی حق کے استعمال سے روکنے کیلئے رکاوٹیں ڈالی ہیںاور مقبوضہ علاقے میں ڈھونگ انتخابات کے ذریعے عالمی برداری کو گمراہ کیا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More