The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات کو فروغ کے لئے ’’منرلز ٹو کیمیکلز کمیٹی‘‘ قائم کی گئی ہے، صدرایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان

9

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 14 ستمبر2020ء) ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان ( ای ایف پی ) کے صدر اسماعیل ستار نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک قرضوں کے بوجھ سے باہر نہیں آسکتا جب تک وہ ویلیو ایڈیشن مصنوعات کا فن نہیں سیکھتا۔ پاکستان کو قدرت نے معدنی وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن بدقسمتی سے اس سے بھرپور استفادہ حاصل نہیںکیا گیا اور معدنی وسائل کی ویلیو ایڈیشن کی بجائے خام شکل میں برآمد کیا جاتا ہے جو جی ڈی پی کا صرف5فیصد ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم اس کو سمجھنا چاہیے کہ معدنیات کے خام مال کی برآمد سے نہ تو روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور نہ ہی صنعتیں لگتی ہیں بلکہ ملکی معیشت پر بوجھ بڑھتا ہے۔ صدر ای ایف پی نے ایک بیان میں کہاکہ پورے پاکستان میں دستیاب معدنیات کی 92 اقسام میں سی42 اقسام بلوچستان میں موجود ہیںجن میں سے کوئی بھی ریفائنڈ نہیں اور یہ برآمد کیا جاتا ہے جس سے بے روزگاری کو کم کرنے میں مدد نہیں ملتی۔

(جاری ہے)

اگر ہم نے ویلیو ایڈیشن کی قدرو قیمت اور اس فن کو نہیں جانا کہ کس طرح ان مصنوعات سے پاکستان کے لیے خطیر ریونیو حاصل کیا جاسکتا ہے تو یہ وسائل ایسے ہی ختم ہوجائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ای ایف پی نے کئی بار مشاورت کے بعد ’’منرلز ٹو کیمیکلز کمیٹی‘‘ متعارف کروائی ہے ۔اس کمیٹی کو معدنی خام مال سے ویلیو ایڈیشن مصنوعات کا کام سونپا گیا ہے تاکہ معدنیات کے خام مال کی برآمد کو کم کرکے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دیا جاسکے اور ملک کو خطیر زرمبادلہ حاصل ہوسکے۔ اسماعیل ستار نے کہاکہ ای ایف پی فی الحال فلور اسپار، کرومائٹ، کوارٹز، میگنیسیٹ، اینٹیمونی ٹالک اور بیریم پر کام کر رہی ہے اور پاکستان کی اسٹیل انڈسٹری کی پیداواری لاگت میں مؤثر کمی میں مدد اور فیروکوم کی پیداوار میں مہارت سے مستفید ہونے کے لیے ہالینڈ کی پی یو ایم کے ساتھ شراکت کی ہے۔یہ کمیٹی پاکستان کے ایس ایم ای سیکٹر کی ترقی کے لیے کام کر رہی ہے جو نہ صرف ہمارے مزدو طبقے کے لیے کام کے بے پناہ مواقع پیدا کرے گی بلکہ ملک میں مزید صنعتوں کے قیام کا باعث بنے گی جو پاکستان کو ایک ترقی یافتہ معیشت کی طرف گامزن کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔صدر ای ایف پی نے کہاکہ حکومت کو کاروباری لاگت کو کم کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ توانائی کے اس وسیع عمل کو آسان بنایا جاسکے اور معدنیات کے بیمار شعبے کی طرف سرمایہ کاروں کی توجہ مبذول کروائی جاسکے۔انہوں نے یقین ظاہر کیاکہ معدنیات کی صنعت اگلے 10 سالوں میں پاکستان کی معیشت کو زبردست ترقی دے گی اور کیمیکل تیار کرنے والے سر فہرست ممالک میں اس کی پوزیشن کومستحکم بنائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More