The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

وہ جمہوریت چاہتے ہیں جو مجھے ضمانت دے کہ میری ماں بہنوں کی عزت ہوگی،جس میں مسخ شدہ لاشیں نہ ملیں،اخترمینگل … ہم توستربرس سے ان کی نظرمیں غدارہیں،محترمہ فاطمہ جناح کوبھی … مزید

18

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 18 اکتوبر2020ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہاہے کہ ہم جمہوریت چاہتے ہیں مگر وہ جمہوریت جو مجھے ضمانت دیکہ میری ماں بہنوں کی عزت ہوگی،جس میں مسخ شدہ لاشیں نہ ملیں،جس میں بزرگوں کی پگڑیاں نہ اچھالی جائیں،جس میں مجھے برابر کا شہری سمجھا جائے۔پی ڈی ایم کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ سانحہ کارساز کے شہید ہونے والے تمام شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں،25 اکتوبرکوکوئٹہ میں تمام قائدین کوخوش آمدید کہوں گا ۔ انہوں نے کہاکہ ہم توستربرس سے ان کی نظرمیں غدارہیں،محترمہ فاطمہ جناح کوبھی غدارقراردیا گیا،جنہوں نے آئین کوتوڑا وہ کیوں غدارنہیں تھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ کراچی کے بعد کوئٹہ،ملتان کا جلسہ ہوگا تو کون کون غدار قراردیئے جائینگے،موجودہ حکومت کیساتھ 2018سے الائنس ہے،خدشات کے باوجودنبھارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ لوگ جمہوری جدوجہد کیلئے لڑتے ہیں،ان لوگوں نے محترمہ فاطمہ جناح پر بھی غداری کے الزام لگائے تھے،جن لوگوں نے اپنی سرزمین اور رشتہ داروں سے وفا نہیں کی ان کے متعلق بانی پاکستان سے سوال کرنے پر حق بجانب ہوں کہ یہ ریاست بنائی کیوں گئی تھی،کیا چھوٹی ریاستوں کو شامل کرنے کیلئے وعدہ نہیں کیا گیا کہ عدلیہ آزاد اور پارلیمنٹ بالادست ہوگی میڈیا آزاد ہوگی تو یہ وعدہ کہاں ہے،یہی جمہوریت ہے کہ منتخب وزیر اعظم کو پھانسی اور جلاوطن کیا جاتا ہے،ایسی جمہوریت چڑیا گھر میں بھی نہیں دیکھی،عدلیہ آزاد ہوتی تو جسٹس افتخار چوہدری کو گھسیٹا نہیں جاتا،میڈیا آزاد ہوتا تو کوئی صحافی پابند سلاسل نہیں ہوتا،آزاد یہاں وہ ہیں جنہوں نے مزدوروں کو قتل اور آئین کو پامال کیا،ہم نکلتے ہیں گھر سے تو اپنی حفاظت کیلئے اسلحے کے ساتھ نکلتے ہیں یہ آزادی نہیں،یہاں کی عوام اپنے بچوں کے تحفظ کی محتاج ہے ایسی جمہوریت ہم نے نہیں دیکھی،عوام سگنل توڑے تو چالان ہوجاتے ہیں کوئی قانون توڑے تو ایف آئی آر داخل ہوتی ہے،ملک میں کئی دفعہ آئین توڑا گیا ،آئیں بنانے والے اگر قدر نہ کریں گے تو کون کریگا،یہ ملک عوام کیلئے بنایا گیا ہے یا ایلیٹ کیلئے،کیا یہ ملک انکے لئے بنایا گیا ہے جو ڈالر بناکر بیرون ملک چلے جائیں۔

انہوں نے کہاکہ اب سندھ اوربلوچستان کے جزیروں پرقبضہ کیا جارہا ہے،بلوچستان کیوسائل اورجزیروں پرقبضہ کرنینہیں دیں گے ،گوادرکے لوگوں کوپینے کاپانی میسرنہیں ہے،آج سمندر میں ماہیگیر کو اپنے سمندر پر اختیار نہیں ہے،بلوچستان اس خطے میں جہاں رات کے اندھیرے میں اجتماعی قبریں بنتی ہیں،بلوچستان وہ سرزمین ہے جہاں یونیورسٹی کے بچے حیات بلوچ کو ماں کے سامنے گولیاں ماری گئیں،فلسطین کا قصہ سنتے ہیں مگر بلوچستان کی مائیں اپنے بچوں کی لاش کی پہچان چھرے سے نہیں جوتے اور پھٹے کپڑوں سے کرتی ہے،برداشت کی حد ہوتی ہے ان سب کے باوجود ہم پھر بھی جمہوریت کا علم تھامے ہوئے ہیں،مسنگ پرسن کے واقعات سب سے زیادہ بلوچستان میں سندھ میں ہوتے ہیں،ہم ایسی جمہوریت کو مانتے ہیں جس میں برابر کا حق حاصل ہو.

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More