The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

وفاقی دارالحکومت میں خاتون کو ہراساں کرنے والے 5 افراد گرفتار … متاثرہ خاتون کی درخواست پر تھانہ کوہسار پولیس نے کارروائی کی ، ملزمان کی گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی

6

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 ستمبر2020ء) وفاقی دارالحکومت کی اسلام آباد پولیس نے خاتون کو ہراساں کرنے والے 5 افراد کو گرفتار کر لیا ۔ تفصیلات کے مطابق متاثرہ خاتون کی درخواست پر تھانہ کوہسار پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 5 ملزمان کو گرفتار کیا اور ان کی گاڑی بھی قبضے میں لے لی ۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے متاثرہ خاتون کا ایف 10 سے ایف 7 جاتے ہوئے پیچھا کیا تھا جہاں ملزمان پر ایف 7 روڈ کے درمیان خاتون کو روک کر ہراساں کرنے کا بھی الزام ہے ۔ یاد رہے کہ اس سے قبل مری ایکسپریس وے پر بھی گاڑی میں سوار خاتون کو ہراساں کرنے پر موٹروے پولیس نے 5 آوارہ نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا ۔ میڈیا ذرائع کے مطابق موٹروے پولیس کے انسپکٹر سجاد نے مری پولیس کو اطلاع دی کہ ایکسپریس وے پر مری کی جانب سفر کرنے والی خاتون نے 130 پر کال کرکے بتایا ہے کہ اسے 5 لڑکے ہراساں کررہے ہیں ، گاڑی کا مسلسل پیچھا کرتے ہوئے ، خاتون کو عجیب عجیب اشارے کررہے ہیں جس پر موٹروے پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیا ، جن کے نام فیضان ندیم، عبداللہ، مصعب عباس ، عمر اور محمد ولید بتائے گئے ہیں ۔

(جاری ہے)

پولیس کا کہنا ہے کہ پانچوں لڑکوں کا تعلق لاہورسے ہے جو گھومنے کے لیے مری آئے تھے ، مری پولیس نے موٹروے پولیس انسپکٹر کی درخواست پر مقدمہ نمبر 485 درج کرلیا ۔ یاد رہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں 2020ء کے پہلے 6 ماہ کے دوران اجتماعی زیادتی کے 77 واقعات رپورٹ ہوئے ، 60 فیصد ملزمان کو تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا ۔ اس حوالے سے پولیس ریکارڈ کے مطابق صوبہ پنجاب کا گوجرانوالہ ریجن اجتماعی زیادتی کے واقعات میں 30 واقعات کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا جبکہ فیصل آباد ریجن میں اجتماعی زیادتی کے 12 واقعات سامنے آئے ۔ رپورٹ کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ملتان ریجن میں اجتماعی زیادتی کے 9 مقدمات درج ہوئے ، لاہور میں اجتماعی زیادتی کے 7 واقعات سامنے آئے ، اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان ریجن میں اجتماعی زیادتی کے 6 ، شیخو پورہ اور راولپنڈی میں 5 ، 5 واقعات رپورٹ ہوئے ، بہاولپور اور ساہیوال ریجن میں ایک ایک اور سرگودھا میں اجتماعتی زیادتی کے 2 واقعات ہوئے ۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق اجتماعی زیادتی کے ان واقعات کے 60 فیصد ملزمان کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More