The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس، … سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے متنخب ہونے والے اراکین کے حلف کیلئے 60 سی90 دن کی مدت مقرر کرنے کے لئے الیکٹورل … مزید

7

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 15 ستمبر2020ء) وفاقی کابینہ نے سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے متنخب ہونے والے اراکین کے حلف کیلئے 60 سی90 دن کی مدت مقرر کرنے کے لئے الیکٹورل ایکٹ میں ترامیم، مشکوک لائسنسوں کے حامل مزید 22 پائلٹس کے لائسنس منسوخی ،اینٹی ملیریئل ڈرگ اور حفاظتی لباس برآمد کرنے، انفلوئنزا، کینسر سمیت زندگی بچانے والی مختلف 250 ادویات کی ریٹیل پرائسنگ اور مختلف تقرریوں کی منظوری دیدی ہے ،وفاقی کابینہ نے ماڈل جیل کے قیام کے لئے گرین ایریاز پر جیل کی دیوار و عمارت کی تعمیر پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ گرین ایریاز پر کی جانے والی تعمیرات فوری طور پر منہدم کی جائیں اور گرین ایریاز بحال کیے جائیں، گرین ایریاز پر تجاوزات کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور انکے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے،وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ حالیہ بارشوں کے نتیجے میں متاثر ہونے والے مستحق خاندانوں کو احساس پروگرام کے ذریعے معاونت فراہم کی جائے۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی کابینہ کو مشکوک لائسنسوں کے حامل پائلٹس کے خلاف جاری کارروائی میں پیشرفت کی رپورٹ پیش کی گئی۔ کابینہ نے مزید 22 پائلٹوں کے لائسنس منسوخ کرنے کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ سول ایوی ایشن کی جانب سے 32 پائلٹوں کے لائسنس آئندہ 12 ماہ کیلئے معطل کئے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 28 پائلٹوں کے لائسنس پہلے ہی منسوخ کئے جا چکے ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ان لائسنسوں کی منسوخی کے ساتھ ایسے پائلٹوں اور ان کے ساتھ ملی بھگت کرنے والے سول ایوی ایشن کے اہلکاروں کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے کارروائی جاری ہے۔ کابینہ نے نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے کی ذمہ داریاں عارضی طور پر سیکرٹری ماحولیاتی تبدیلی کو دینے کی منظوری دی۔ اس کے ساتھ ساتھ کابینہ نے وزارت منصوبہ بندی، وزارت خزانہ اور ماحولیاتی تبدیلی کو ہدایت کی کہ نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے استعمال کو مزید بہتر بنانے کے حوالہ سے تجاویز پیش کی جائیں۔ کابینہ نے ایئر کموڈور فیصل ایاز صدیقی اور ایئر کموڈور محمد عدنان صدیقی کو پاکستان ایئر ناٹیکل کمپلیکس بورڈ کامرہ میں بطور ممبر کمرشل اور ممبر ٹیکنیکل تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے سول سروسز اکیڈمی کو خود مختار ادارہ بنانے کے حوالہ سے مجوزہ بل ’’سول سروسز اکیڈمی بل 2020ء‘‘ کی منظوری دی۔ کابینہ نے ممبر مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی خالی آسامی کو پر کرنے کیلئے عمل شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔ کابینہ نے ایڈیشنل سیکرٹری وزارتِ صنعت و پیداوار ڈاکٹر حامد عتیق سرور کو چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن کی ذمہ داریاں سونپنے کی منظوری دی، چونکہ اس ادارے کی نجکاری کی جا رہی ہے لہٰذا اس مدت کے دوران چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے کی ذمہ داریاں ایڈیشنل سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار کو تفویض کی جا رہی ہیں۔ کابینہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رجب علی کو جج سپیشل کورٹ (سنٹرل) پشاور تعینات کرنے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج/جج بینکنگ کورٹ۔1 فیصل آباد محمد وسیم اختر کو جج سپیشل کورٹ (سنٹرلIII) لاہور تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجہ غضنفر علی خان کو جج سپیشل کورٹ (سنٹرل) راولپنڈی تعینات کرنے کی بھی منظوری دیدی۔ کابینہ نے ممبران پارلیمنٹ کے حلف اٹھانے کی مدت مقرر کرنے کے حوالے سے الیکشن قوانین میں ترمیم کی منظوری دیدی۔ وفاقی دارالحکومت میں ماڈل جیل کے قیام کے معاملہ میں کابینہ نے گرین ایریاز پر جیل کی دیوار و عمارت کی تعمیر پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ گرین ایریاز پر کی جانے والی تعمیرات منہدم کی جائیں اور گرین ایریاز بحال کئے جائیں، اس کے ساتھ ساتھ گرین ایریاز پر تجاوزات کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ایجنڈا نمبر 12 مؤخر کر دیا گیا۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 2 ستمبر 2020ء کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ حالیہ بارشوں کے نتیجہ میں متاثر ہونے والے مستحق خاندانوں کو احساس پروگرام کے ذریعے معاونت فراہم کی جائے۔ اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے (Cabinet Committee on State-owned Enterprise) کے 24 جون2020ء اور 31 اگست 2020ء کے فیصلوں کی توثیق کی۔ ایجنڈا نمبر 15 مؤخر کر دیاگیا۔ کابینہ نے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیش ٹیکنالوجی کے شعبہ میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن اور چین کی منسٹری آف انڈسٹری اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے درمیان میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (باہمی مفاہمت کی یادداشت) کی منظوری دیدی۔ کابینہ نے اینٹی ملیریئل ڈرگ (Anti-Malarial Drugs) اور حفاظتی لباس (Tyvek Suits) کی برآمدات کی منظوری دی۔ کابینہ نے اجلاس میں250 ادویات جن میں ہپیاٹائٹس، انفلوئنزا، کینسر وغیرہ جیسے مرض کی ادویات شامل ہیں، کی ریٹیل پرائس کی منظوری دیدی۔ وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہحکومت کی کامیاب حکمت عملی کے بعد 25لاکھ بچے دوبارہ سکولوں میں جانے لگے ہیں ، والدین اور اساتذہ سے اپیل ہے کہ وہ ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں ، معاشی سرگرمیوں کے بعد تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ادویات کی ریٹیل پرائس کا بھی جائزہ لیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اسلام آباد میں بائی لاز کی خلاف ورزی پر سی ڈی اے جوابدہ ہے ، چیئرمین سے لیکر متعلقہ افسر اور ملازم تک سے غیر قانونی امور کا جواب لیا جائے گا ان اداروں کی وجہ سے سرمایہ کاری کرنے والوں اور اراضی خرید و فرخت کرنے والوں سے ذیادتی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی الیکٹرک کا ایشو یہ ہے کہ کراچی کو چار روپے اور کچھ پیسوں میں فی یونٹ مل رہی تھی اور باقی وفاقی حصہ میں تھی ، لائن لاسسز بھی تھے ، اس کی وجوہات اور تفصیلات جاننے کے لئے وفاقی کابینہ نے اس آئٹم کو ایک ہفتے کے لئے موخر کر دیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی واضح ہدایات ہیں کہ اپنی مدت ملازمت مکمل کرنے والوں کو بروقت پنشن ملے ۔ موٹروے واقعہ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایسے واقعات افسوسناک ہیں، پوری قوم میں تشویش اور غصے کی لہر اٹھی ہے ، وقت آگیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے فوری قانون سازی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 2013میں بھی اس واقعہ میں ملوث شخص نے ماں بیٹی کے ساتھ ذیادتی کی ہے،ایوان میں ایسے رنجیدہ ماحول میں اپنی کارکردگی بیان کرنے والے شہباز شریف بتائیں کہ 2013میں اس شخص کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی اگر اسے سزا ملتی تو ایسا واقعہ نہ ہوتا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے حوالے سے عدالت کا فیصلہ آگیا ہے اگر تھوڑا سا بھی عدالت کا احترام ہے تو انھیں واپس آجانا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی بھی گواہ ہے کہ جب یہ لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں تو ان کے اثاثے باہر ہوتے ہیں اور جب وہ اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو وہ خود بھی باہر ہی ہوتے ہیں ،ابھی تو شریف فیملی کے دیگر لوگ بھی ملک سے باہر جانے کے چکروں میں ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More