The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

وزیراطلاعات کا ریڈیو پشاور کا دورہ ،مختلف شعبوں کے متعلق بریفنگ دی گئی … ماضی میں حکومتوں نے اداروں میں بے تحاشہ بھرتیاں کیں جس سے ادارے معاشی طور پر کمزور ہوئے، وزیر … مزید

12

ماضی میں حکومتوں نے اداروں میں بے تحاشہ بھرتیاں کیں جس سے ادارے معاشی طور پر کمزور ہوئے، وزیر اطلاعات
صحت کارڈ کے حوالے سے عوام میں مزید آگاہی پیدا کی جائے،سائنسی بنیادوں پر کام کو آگے بڑھانا ہو گا،سینیٹر شبلی فراز کی گفتگو

اتوار اکتوبر
21:55

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 18 اکتوبر2020ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریا ت سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ صحت کارڈ کے حوالے سے عوام میں مزید آگاہی پیدا کی جائے،سائنسی بنیادوں پر کام کو آگے بڑھانا ہو گا،ماضی میں حکومتوں نے اداروں میں بے تحاشہ بھرتیاں کیں جس سے ادارے معاشی طور پر کمزور ہوئے۔ اتوار کو وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے ریڈیو پاکستان پشاور کا دروہ کر کے ریڈیو سنٹر کے مختلف شعبوں میں گئے ، اسٹیشن ڈائریکٹر نے وفاقی وزیر کو ریڈیو پشاور کی ورکنگ اور مختلف شعبوں کے متعلق بریفنگ دی۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ سینئر آرٹسٹوں کو صحت کارڈ ملنے چاہیں،ان فنکاروں کا ایک ڈیٹا بیس ضروری ہے،انہوں نے قوم کی خدمت کی اور ملکی ثقافت کو اجاگر کیا۔

(جاری ہے)

وزیر اطلاعات نے کہاکہ ان فنکاروں نے زندگی کا.بہترین وقت ریڈیو کو دیا۔ انہوںنے کہاکہ باقاعدہ ڈیٹا مرتب کیا جائے، فنکاروں کی معاشی حالت کے بارے میں وزارت کو آگاہ کریں۔سینیٹر شبلی فراز نے کاہکہ ریڈیو پاکستان پشاور میں بڑی بڑی شخصیات نے خدمات سرانجام دی ہیں۔

انہوںنے کہاکہ ریڈیو اور پی ٹی وی کی عظمت رفتہ بحال کرنا ہمارا مقصد ہے۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ آلات میں جدت ضروری ہی, ڈیجیٹلائزیشن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ریڈیو مواصلات کا اہم ذریعہ ہے،حکومتی پالیسیوں کو عوام تک پہنچایا جائے۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ صحت کارڈ کے حوالے سے عوام میں مزید آگاہی پیدا کی جائے،سائنسی بنیادوں پر کام کو آگے بڑھانا ہو گا،وزیر اطلاعات نے کہاکہ ہم نے ایک میکنزم بنانا ہے جس میں آڈینس کی میپنگ ہو سکے،مانیٹرنگ اور فیڈ بیک کے نظام کو موثر بنایا جا سکے۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ ماضی میں حکومتوں نے اداروں میں بے تحاشہ بھرتیاں کیں جس سے ادارے معاشی طور پر کمزور ہوئے۔انہوںنے کہاکہ ادارہ جاتی اصلاحات لا رہے ہیں تا کہ اداروں کو مظبوط بنایا جا سکے۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More