The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

نیب بدعنوان عناصر کیخلاف قانون کے مطابق بلا امتیاز تحقیقات پر یقین رکھتا ہے، چیئر مین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال

40

لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 16 ستمبر2020ء) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئر مین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے نیب لاہور کا دورہ کیا جہاں ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور نے کمبائینڈ انویسٹی گیشن ٹیموں کے ہمراہ چیئرمین نیب کو نیب لاہور کی کارکردگی خصوصا میگا کرپشن کے مقدمات میں ہونیوالی تحقیقات میں ابتک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں شامل کیسز جن میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے افسران و اہلکاران کیخلاف نجی ہوٹل کو شراب لائسنس کے اجراء کی تحقیقات میں ہونیوالی پیش رفت، سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور اہل خانہ کیخلاف مبینہ منی لانڈرنگ کے ریفرنس، نورالامین مینگل و سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد خان چیمہ کیخلاف لاہور ماسٹر پلان میں مبینہ تبدیلی کے کیس میں ہونیوالی پیشرفت، سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کا کیس، صوبائی وزیر پنجاب عبدالعلیم خان کیخلاف جاری انویسٹی گیشن میں ہونیوالی پیشرفت پر مفصل بریفنگ دی گئی۔

(جاری ہے)

چیئرمین نیب نے تمام کیسز کی تحقیقات کو میرٹ کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب بدعنوان عناصر کیخلاف قانون کے مطابق بلا امتیاز تحقیقات پر یقین رکھتا ہے۔نیب افسران کا تعلق کسی پارٹی یا گروہ سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاستِ پاکستان سے ہے۔نیب افسران تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انویسٹی گیشن قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائیں تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے۔چیئر مین نیب نے ہدایت کی کہ عوام کے کروڑوں، اربوں روپے لوٹنے والی جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اورمفرور و اشتہاری ملزمان کی فوری گرفتاری کے لئے قانون کے مطابق اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔چیئر مین نیب نے ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور کی سربراہی میں نیب لاہور کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ نیب کی مجموعی کارکردگی میں نیب لاہور کا اہم کردار ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More