The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

نواز شریف کی سرینڈر کرنے کے عدالتی فیصلے پر نظرثانی اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں مسترد ، … ناقابل ضمانت وارٹ گرفتاری جاری قانون کے بھگوڑے کو ریلیف دینے سے انصاف … مزید

8

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 15 ستمبر2020ء) احتساب عدالت سے اشتہاری قرار دئیے جانے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی سرینڈر کرنے کے عدالتی فیصلے پر نظرثانی کرنے اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں مسترد کر تے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔ منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے نواز شریف کی درخواستوں پر سماعت سماعت کی۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف لندن میں ہیں اور پاکستان واپس آنے کی پوزیشن میں نہیں،ڈاکٹرز نے نواز شریف کو سفر سے منع کیا ہے، نواز شریف نے واضح طور پر اپنی درخواست میں کہا کہ وہ پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں، جیسے ہی نواز شریف کو ڈاکٹرز نے سفر کی اجازت دی وہ تو وطن واپس آ جائیں گے۔

(جاری ہے)

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریماکس دیئے کہ جو میڈیکل سرٹیفکیٹ ہیں وہ ایک کنسلٹنٹ کی رائے ہے جو کسی ہسپتال کی طرف سے نہیں، ابھی تک کسی ہسپتال نے نہیں کہا کہ ہم کوویڈ کی وجہ سے نواز شریف کو داخل کر کے علاج نہیں کر پا رہے،اگر ہسپتال سے باہر ہی رہنا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں وہ پہلے بھی پاکستان میں ہسپتال داخل اور زیر علاج رہے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ نواز شریف عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے نواز شریف کو سرینڈر کرنے کا حکم دیا، العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت ختم ہو چکی ہے،ان کی جانب سے دائر درخواستیں ناقابل سماعت ہیں،نیب آرڈی نینس کے تحت مفرور ملزم کو تین سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنگین غداری کیس میں بھی پرویز مشرف کے اشتہاری ہونے کے باوجود ٹرائل چلایا گیا، سپریم کورٹ نے ایک کیس میں تو اشتہاری ہوتے ہوئے بھی مختلف وجوہات کی بنا پرویزمشرف کی درخواست کو سنا، نواز شریف کا کیس بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔نیب پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ عدالت کے پاس اختیار ہے کہ مفرور کی اپیل مسترد کر دے یا خود اس کے لیے وکیل مقرر کرے، قانون کے بھگوڑے کو ریلیف دینے سے انصاف کا نظام متاثر ہو گا،عدالت نواز شریف کو سرینڈر کرنے کا موقع فراہم کر چکی ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریماکس دیئے کہ ضمانت لے کر باہر جانے والے نے سرجری نہیں کرائی، نہ ہی ہسپتال داخل ہوئے،عدالت نے نواز کی حاضری سے استثنیٰ اور سرینڈر کرنے کی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستوں مسترد کرتے ہوئے ناقابل ضمانت ورانٹ گرفتاری جاری کر دی۔ مزید کیس کی سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More