The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

نوازشریف نے ادارے کی نہیں، صرف شخصیات کی بات کی … انفرادی شخصیات کی بات اب بھی ہے، نوازشریف کے سوالوں پرسنجیدگی سے لینا ہوگا، قوم سمجھتی کو پتا ہے اداروں اور کرداروں … مزید

14

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 اکتوبر2020ء) مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ نوازشریف نے فوج کے ادارے کو نہیں، انفرادی شخصیات کی بات اب بھی ہے، نوازشریف کے سوالوں پرسنجیدگی سے لینا ہوگا، قوم سمجھتی کو پتا ہے اداروں اور کرداروں میں کیا فرق ہے، عمران صاحب 22 سال سے کہہ رہے ہیں کہ فوج مداخلت کرتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق نے ن لیگی رہنماء طلاول چودھری نجی ٹی وی کے پروگرام میں جبکہ ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب نے بیان دیا۔ طلاول چودھری نے کہا کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی سوال اٹھاتا ہے ، سوال اٹھانے والا تین بار کا وزیراعظم اور بڑی جماعت کا قائد بہترین لیڈر ہے، ہم اس کے ذاتی تجربے اور تاریخی حوالوں کو رد کردیتے ہیں اور ایک منٹ میں عالمی ایجنڈے پر لے آتے ہیں، غدار کہنا شروع کردیتے ہیں۔

(جاری ہے)

پاکستان میں چار مارشل لاء نہیں لگے، وہ کون لوگ تھے، کون سا محکمہ تھا، کیا پاکستان نہیں ٹوٹا؟ ایل ایف او اور پی سی او کے حلف نہیں ہوئے۔

کیا پاکستان کے مسائل کی وجہ یہ نہیں کہ ہم آئین پر نہیں چل سکے۔ وہ ملک جو ہم سے پیچھے تھے وہ آگے چلے گئے ہیں، اگر تو ہم نے پاکستان کو مسائل سے نکالنا ہے تو پھر ہمیں حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ طلال چودھری نے کہا کہ ایک بات نوازشریف کی تقریر میں ادارے کوٹارگٹ نہیں کیاگیا، بلکہ انفرادی شخصیات کی بات ہوئی ، شخصیات کی بات ہے، نوازشریف کے سوالوں پرسنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عمران صاحب کا سیاسی بہروپ آج مکمل اتر گیا، وہ مشرف بن گئے ہیں۔ عمران صاحب جن دو بچوں کی بات کر رہے ہیں انھوں نے اُن کو نانی یاد کروا دی ہے۔ نوازشریف شخصیات کی بات کررہے ہیں، عمران صاحب ادارے کی بات کررہے ہیں۔ قوم سمجھتی ہے کہ اداروں اور کرداروں میں کیا فرق ہے۔ عمران صاحب بائیس سال سے کہہ رہے ہیں کہ فوج مداخلت کرتی ہے ۔ عمران صاحب وقت پر شادی کرتے توآج پڑنانا ہوتے۔ کاش رشتوں کے تقدس اور احترام کو سمجھتے۔ عمران صاحب کو معیشت کی بدحالی، بے روزگاری اور مہنگائی سے تکلیف نہیں۔ نوازشریف کی تقریر سے عمران صاحب تکلیف نہیں تو ٹی وی پر دکھائیں؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More