The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

نامور شخصیات کے خراج تحسین کیلئے جامعات میں اعزازی کرسیاں مخصوص کی جائیں گی‘ کامران بنگش

24

جمعرات ستمبر
22:49

پشاور۔24 ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 24 ستمبر2020ء) تاریخی شخصیات اور انکے افکار ہمارا اثاثہ ہیں، تاریخ کو ساتھ لیکر مستقبل کو روشن بنائینگے، اباو اجداد کے نقش قدم پر چل کر ملک و قوم کی عظمت رفتا کو مستحکم بنائینگے، معروف شخصیات کے ناموں سے جامعات میں اعزازی کرسیوں کی تخصیص پر فخر محسوس کررہا ہوں، اقدام کے نفاذ سے طلبا میں تاریخی شخصیات کے افکار اجاگر ہونگے، جامعات موجودہ وسائل میں اقدام کو نافذ کرینگے کوئی اضافہ اخراجات خرچ نہیں ہونگے، ان خیالات کا اظہار وزیراعلی محمود خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلی تعلیم کامران بنگش نے جامعات میں نامور شخصیات کے ناموں سے اعزازی کرسیوں کے تخصیص کے فیصلے کی تائید کرنے کے موقع پر کیا۔ معاون خصوصی نے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے نامور شخصیات کے افکار کو اجاگر کرنے کیلئے اس احسن اقدام کو توسیع دیتے ہوئے جامعات میں ان کے نام سے اعزازی کرسیوں کی تخصیص کی سفارش کردی ہے۔

(جاری ہے)

صوبے کے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں تاریخی، سیاسی اور لکھاری شخصیات کے نام سے اعزازی کرسیوں کی تخصیص عمل میں لائے جائیگی۔

معاون خصوصی برائے اعلی تعلیم کامران بنگش نے اقدام کے نفاذ کی سفارش کرتے ہوئے اسے ان شخصیات کے افکار کی پیروی قرار دیا ہے۔ اس تاریخی فیصلے سے نوجوان نسل میں ان شخصیات کے افکار کی ترویج ہوگی اور ان کے خیالات اور خدمات سے آئندہ کی نسلیں مستفید ہونگی۔ فیصلے کے مطابق ان نامور شخصیات میں بایزید انصاری، مرزا علی خان المعروف فقیر آف ایپی ، خوشحال خان خٹک، دریا خان افریدی،ایمل خان مہمند اور عبدالغنی خان کو ان کی خدمات کے اعتراف میں شامل کیا گیا ہے جبکہ سواتء ابء، معصومہ ابء اور سیدہ بشری بیگم المعروف س ب ب نے نام سے بھی اپنی تاریخی خدمات کے عوض جامعات میں کرسیاں مخصوص کی جائینگی۔ کامران بنگش کے مطابق اقدام کا مقصد نامور شخصیات کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ اقدام محکمہ سیاحت، کھیل، ثقافت اور امور نوجوانان کے تجویز کے تحت اٹھایا گیا اور اس مد میں گومل یونیورسٹی میں نواب اللہ نواز خان کے نام سے پہلے ہی کرسی مخصوص کی گئی ہے جبکہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں بھی سردار عبدالرب نشتر کے نام کرسی کی تخصیص عمل میں لائی جاچکی ہے۔ واضح رہے اس اقدام سے یونیورسٹیوں پر کوئی اضافی اخراجات نہیں آئینگے، بلکہ موجودہ وسائل ہی میں کرسیوں کی تخصیص ممکن بنائی جائیگی۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More