The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

نئے نویلے جوڑے میں لڑائی کا بھیانک انجام، دولہا نے دلہن کو قتل کر کے اپنی گردن بھی کاٹ لی … دلہے کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا، جوڑے کے مابین لڑائی حق مہر … مزید

20

اوچ شریف (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اکتوبر2020ء) نئی نویلے شادی شدہ جوڑے میں جھگڑے کا بھیانک انجام ہو گیا۔دلہا نے دلہن کو قتل کر کے اپنی بھی گردن کاٹ لی۔تفصیلات کے مطابق جنوبی پنجاب کے ضلع اوچ شریف میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں شوہر نے دلہن کو قتل کر کے اپنی گردن کاٹ لی۔بتایا گیا ہے کہ نئے نویلے جوڑے میں حق مہر کا قیمتی پلاٹ واپس کرنے کرنے پر تلخ کلامی ہوئی،یہ تلخ کلامی شدت اختیار کر گئی،حق مہر کا قیمتی پلاٹ واپس نہ کرنے پر جھگڑا مزید بڑھ گیا۔جس پر شوہر نے نئی نویلی دلہن قتل کر دیا اور تیز دھار آلے سے اپنی گردن کاٹ کر خودکشی کی کوشش کی۔شوہر کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ مقتولہ کی شادی 4 ماہ قبل ہوئی تھی۔پولیس نے لاش ضابطے کی کاروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دی۔

(جاری ہے)

واقعے کی تفصیلات میں بتایا گیا کہ نوجوان محمد اجمل کی 4 ماہ قبل مقتولہ نصرت سے شادی ہوئی جسے حق مہر میں قیمتی پلاٹ لکھ کر دیا گیا،شادی کے ایک ماہ بعد خاوند نے اپنی بیوی سے حق مہر کا پلاٹ واپس دینے کا مطالبہ کیا جس پر دونوں میں جھگڑا شروع ہوا۔

بیوی بھی پلاٹ واپس نہ کرنے پر بضد تھی، خاوند نے یہ ماننے پر اس کو قتل کر دیا اور خود بھی اپنی جان لینے کی کوشش کی۔لڑکی کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دی گئی ہے۔پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے اور زخمی شوہر کی حالت سنبھلنے کےبعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔واضح رہے کہ گذشتہ ماہ بھی اوچ شریف میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا جب 16 سالہ دلہن نے جبری شادی سے بچنے کیلئے دولہے کو قتل کر دیا تھا۔ یہ واقعہ صوبہ پنجاب کے علاقے اوچ شریف میں پیش آیا تاہم دولہے کو قتل کرنے کے وقت ان کا نکاح ہوچکا تھا ، جن کی شادی وٹہ سٹہ رسم کے تحت ہوئی تھی جہاں 36 سالہ شخص صدیق نے اپنی بیٹی کی شادی رشید کے بیٹے سے کی جس کے بدلے میں رشید احمد کو اپنی 16 سالہ بیٹی سمرین کی شادی صدیق کے بیٹے سے کرنا تھی ۔ گرفتاری کے بعد سمرین نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ اس نے اپنے شوہر کو زہر دے کر قتل کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More