The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

مہنگائی کے اس طوفا ن میں2سال قبل مقررکی گئی … تنخواہیں انتہائی کم ہیں سرکاری اور نجی شعبہ کے ملازمین سخت مالی مشکلات کا شکار ہیں، این ایل ایف سندھ

17

تنخواہیں انتہائی کم ہیں سرکاری اور نجی شعبہ کے ملازمین سخت مالی مشکلات کا شکار ہیں، این ایل ایف سندھ

ہفتہ اکتوبر
21:29

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 17 اکتوبر2020ء) نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے صدر سید نظام الدین شاہ ،جنرل سیکریٹری شکیل احمد شیخ ، محمد احسن شیخ اور اعجاز حسین ، اختر غلام علی اور دیگر نے کہا ہے کہ مہنگائی کے اس طوفا ن میں جہاں دودھ 110 روپے لیٹر ، چینی100روپے کلو،دالیں250سی300روپے کلو اوربنیادی ضرورت آٹا80روپے کلو ہو چکا ہو تعلیمی اخراجات بے انتہابڑھ چکے ہیں وہاں2سال قبل مقرر کی گئی کم از کم تنخواہیں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے سرکاری اور نجی شعبہ کے ملازمین سخت مالی،مشکلات کا شکار ہیں اور نوبت چٹنی روٹی نہیں فاقہ کشی کی تک آچکی ہے تین وقت کے بجائے ایک وقت بھی پیٹ بھر کر روٹی کھانا ممکن نہیں رہا ہے، ایک بیان میں ان رہنمائوں نے کہا کہ غریب محنت کش جب ا س طرح کے معاشی حالات کا شکار ہیں کے ان کے پیٹ میں روٹی بھی پوری نہیں ہے وہ کس طرح سے محنت مزدوری کر کے ملک کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں برامداد میں اضافہ اسی وقت ممکن ہے جب صنعتیں بھر پور پیداوار دیں اور جس کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلے کو پوزیشن میں ہو زائد مالیت کی پیداوار سے معیشت بحال نہیں ہو سکتی اس کے دو ہی حل ہیں کہ تنخواہوں میں اضافہ کر کے پیداواری اخراجات بڑھادئیے جائیں یا اشیاء ضرورت کی قیمتوں میں 60سے 70فیصد کمی کر کے غریبوں کی مدد کی جائے کہ وہ موجودہ تنخواہ میں بھی پیٹ بھر کر روٹی کھا سکیں اور اپنے بھر پور توانائیاں استعمال کر کے ملک کی معیشت کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرسکیں، این ایل ایف رہنمائوں نے اپیل کی کہ اشیاء ضرورت کی قیمتوں میں فوری 60سے 70فیصد کمی کی جائے اور اشیاء تعیش کی درآمداد پر پابندی لگائی جائے اور ان پر عائد ٹیکسومیں اضافہ کیا جائے 120گز تک کے مکانات پر بجلی کے بلوں میں کم از کم 50فیصد کمی کی جائے اور 150گز سے بڑے مکانات پر نہ صرف جائیداد ٹیکس میں اضافہ کیا جائے بلکہ ان سے عام شرح پر بجلی ،گیس اور دیگر یوٹیلیٹیز کے بل پابندی سے وصول کئے جائیں بجلی کی فراہمی کے لئے کارڈ میٹرلگائے جائیں تا کہ ہر صارف اپنے خرچ کردہ بجلی کے مطابق کارڈ خریدے تا کہ بجلی کی چوری رک سکے اور صنعتوں کو کم قیمت پر بجلی مل سکے۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More