The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

مہران ٹاؤن کورنگی کا رہائشی 15سالہ نوجوان پراسرار طور پر لاپتہ … ْایک ماہ سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود پولیس محمد راشد کو بازیاب کرانے میں ناکام ہے وزیراعلیٰ سندھ … مزید

6

ْایک ماہ سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود پولیس محمد راشد کو بازیاب کرانے میں ناکام ہے
وزیراعلیٰ سندھ ،چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ،آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف بیٹے کو بازیاب کرائیں،والد کی اپیل

منگل ستمبر
17:14

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 15 ستمبر2020ء) کراچی کے علاقے مہران ٹاؤن کورنگی کا رہائشی 15سالہ نوجوان پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا ۔ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود پولیس محمد راشد کو بازیاب کرانے میں ناکام ہے ،جس کی وجہ سے اہل خانہ شدید کرب کے عالم میں ہیں ۔لاپتہ نوجوان کے والد محمد اشرف نے وزیراعلیٰ سندھ ،چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ،آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کی گمشدگی کا نوٹس لیتے ہوئے بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔تفصیلات کے مطابق مہران ٹاؤن سیکٹر 6/Dشریف آباد کورنگی کے رہائشی محمد اشرف نے بتایا کہ ان کا بیٹا 15سالہ محمد راشد 11اگست 2020کو اپنے چچا کے گھر کچھ سامان پہنچانے گیا اور اس کے بعد پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا ۔

(جاری ہے)

نوجوان کی گمشدگی کے بعد اہل خانہ نے اس کی تلاش کے لیے تھانہ کورنگی انڈسٹریل ایریا میں درخواست جمع کرائی اور واقعہ کا مقدمہ بھی درج کرادیا تاہم ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود پولیس محمد راشد کو بازیاب کرانے میں ناکام ہے ۔

محمد راشد کے والد نے بتایا کہ ہم نے اس کی تلاش کے لیے تمام اسپتالوں اور دیگر متعلقہ مقامات کو چھان مارا لیکن اس کا کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے جبکہ پنجاب میں موجود ہمارے رشتہ دار بھی اس حوالے سے لاعلم ہیں ۔انہوںنے کہا کہ بیٹے کی گمشدگی کے بعد تمام اہل خانہ انتہائی کرب کا شکار ہیں ۔خصوصاً اس کی ماں کی حالت انتہائی غیر ہے ۔محمد اشرف نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ،آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کی گمشدگی کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More