The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

موٹروے زیادتی کیس میں عابد علی اور شفقت کے بعد ایک اور ملزم کا نام سامنے آگیا … واردات کی رات اقبال عرف بالا مستری کو بھی بلایا تھا تاہم وہ آدھے راستے سے واپس چلا گیا، … مزید

9

لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 ستمبر2020ء) موٹروے زیادتی کیس میں عابد علی اور شفقت کے بعد ایک ملزم کا نام سامنے آگیا۔ ملزم شفقت کی جانب سے پولیس کو دیے گئے بیان کے مطابق واردات کی رات اقبال عرف بالا مستری کو بھی بلایا تھا تاہم وہ آدھے راستے سے واپس چلا گیا، اقبال ہمارے ساتھ دیگر وارداتوں میں ملوث رہا۔ تفصیلات کے مطابق موٹروے زیادتی کیس کے گرفتار ملزم شفقت کی جانب سے پولیس کو دیے گئے بیان میں مزید انکشافات کیے گئے ہیں۔ ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ ان کیساتھ ایک اور ملزم بھی ملوث تھا جسے واردات کی رات بلایا گیا تھا۔ اس ملزم کا نام اقبال عرف بالا ہے جسے موٹروے زیادتی کی واردات والی رات بلایا تھا تاہم وہ آدھے راستے سے ہی واپس چلا گیا تھا۔ واضح رہے کہ سی آئی اے نے گزشتہ رات نامزد ملزم وقارالحسن کی نشاندہی پر واقعے میں ملوث ملزم شفقت کو دیپالپور سے گرفتار کیا۔

(جاری ہے)

جس نے ملزم عابد کے ساتھ ملکر خاتون سے زیادتی کا اعتراف کرلیا ہے۔ شفقت کا تعلق بہاولنگر کی تحصیل ہارون آباد کا رہائشی ہے۔ ملزم شفقت کا ڈین این اے بھی میچ کرگیا ہے۔ پولیس تحقیقات کے دوران شفقت نے خاتون سے زیادتی کا اعتراف کرلیا ہے۔ پولیس نے وقار الحسن کی سالے عباس نے بھی گرفتاری دے دی ہے۔ عباس کے زیراستعمال وقار الحسن کی موبائل سم چل رہی تھی۔ گرفتار ملزم شفقت ولد اللہ دتہ نے اعتراف جرم کیا ہے کہ ملزم عابد سے مل کر خاتون سے زیادتی کی۔ ملزم شفقت نے عابد کے ساتھ مل کر 11 وارداتیں کیں۔ پولیس نے ملزم کا ڈی این اے سیمپل فرانزک کیلئے بھجوا دیا ہے۔ ملزم کا ڈی این اے خاتون کے ڈی این اے سے میچ کرگیا ہے۔ شفقت علی اور اس کا خاندان پہلے بھی جرائم میں ملوث رہا ہے۔ ملزم شفقت علی نے عابد کے ساتھ مل کر 11 وارداتیں کیں۔ملزم شفقت علی نے پولیس کو دئیے گئے اعترافی جرم میں بتایا ہے کہ میں نے اور عابد نے مل کر موٹروے پر ڈکیتی کی تھی۔ واقعے کا مرکزی ملزم عابد علی جرائم میں میرا ساتھی ہے۔ پہلے ہم نے ڈکیتی کی۔ بعدازاں خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔پعابد علی کے ساتھ مل کر وارداتیں کرتا تھا،واردات کے لیے عابد نے لاہور بنایا تھا۔ موٹروے پر واردات کے بعد ایک رات قلعہ ستار گاؤں میں گزاری۔ معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دیپالپور چلا گیا تھا۔ جب کہ عابد علی والد کے پاس چلا گیا تھا،عابد سے آخری رابطہ تین روز قبل ہوا۔ ایک ماہ قبل شیخپورہ میں واردات کے دوران خاتون سے زیادتی کی کوشش کی تھی۔ پولیس کے موقع پر پہنچنے پر فرار ہوئے۔ ملزم نے مزید بتایا کہ موٹروے کے قریب گھات لگا کر واردات کے لیے بیٹھے تھے۔ واردات کے لیے تینوں کو بلایا گیا لیکن بالا مستری واپس چلا گیا۔ جب دیکھا کہ گاڑی میں صرف خاتون اور بچے ہیں تو گاڑی کے پاس گئے اور گاڑی کے ارد گرد کئی چکر لگائے۔ خاتون سڑک سے نیچے نہیں جا رہی تھی۔ پہلے بچوں کو نیچے لے کر گئے۔ جس کے بعد خاتون بھی پیچھے آئی۔ جب خاتون بھی نیچے آئی تو اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اسی حوالے سے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ ملزمان نے واردات کی رات گاڑی کے شیشے توڑے جس سے عابد کا ہاتھ زخمی ہوا۔ خاتون نے جب گاڑی کا شیشہ کھولنے سے انکار کیا تو پتھر کی مدد سے شیشے توڑے۔ عابد کے زخمی ہاتھ کے خون کے قطرے بھی گاڑی کے شیشے پر تھے۔عابد اور شفقت نے مل کر 11 واردتیں کی۔ واردات کی رات دونوں نے شراب پی رکھی تھی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More