The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

موٹروے زیادتی کیس ، 2 افراد گرفتاری نہ دیتے تو انہیں مار دیا جاتا ، ڈاکٹر شاہد مسعود … انتظامیہ کی ذمہ دار شخصیات کے غیر ذمہ دارانہ بیان جاری رہے تو تشدد بڑھے گا ، تجزیہ … مزید

9

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 ستمبر2020ء) موٹروے کیس میں جن 2 افراد نے گرفتاری دی اگر یہ ایسا نہ کرتے تو انہیں مار دیا جاتا ، ان خیالات کا اظہار تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کیا ۔ نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ کی ذمہ دار شخصیات کی طرف سے غیر ذمہ دارانہ بیان جاری رہے تو معاشرے میں تشدد بڑھے گا ، موٹر وے زیادتی کیس میں واقعے کا دورانیہ 10 ، 15 منٹ نہیں بلکہ 2 سے اڑھائی گھنٹے تھا ، وہاں سے گزرنے والے عینی شاہد نے بتایا کہ اس نے ائیر پورٹ جاتے وقت گاڑی کو دیکھا اور پولیس کو کال کی جبکہ ائیر پورٹ سے واپسی پر بھی گاڑی اسی جگہ موجود تھی ، یعنی یہ واقعہ 2 سے اڑھائی گھنٹے تک جاری رہا ۔
دوسری طرف موٹروے پر خاتون زیادتی کیس میں سی آئی اے نے نامزد ملزم وقارالحسن کی نشاندہی پر واقعے میں ملوث ملزم شفقت کو دیپالپور سے گرفتار کیا۔

(جاری ہے)

جس نے ملزم عابد کے ساتھ ملکر خاتون سے زیادتی کا اعتراف کرلیا ہے۔ شفقت کا تعلق بہاولنگر کی تحصیل ہارون آباد کا رہائشی ہے۔ ملزم شفقت کا ڈین این اے بھی میچ کرگیا ہے۔ پولیس تحقیقات کے دوران شفقت نے خاتون سے زیادتی کا اعتراف کرلیا ہے۔

پولیس نے وقار الحسن کی سالے عباس نے بھی گرفتاری دے دی ہے۔ عباس کے زیراستعمال وقار الحسن کی موبائل سم چل رہی تھی۔ گرفتار ملزم شفقت ولد اللہ دتہ نے اعتراف جرم کیا ہے کہ ملزم عابد سے مل کر خاتون سے زیادتی کی۔ ملزم شفقت نے عابد کے ساتھ مل کر 11 وارداتیں کیں۔ پولیس نے ملزم کا ڈی این اے سیمپل فرانزک کیلئے بھجوا دیا ہے۔ ملزم کا ڈی این اے خاتون کے ڈی این اے سے میچ کرگیا ہے۔ شفقت علی اور اس کا خاندان پہلے بھی جرائم میں ملوث رہا ہے۔ ملزم شفقت علی نے پولیس کو دئیے گئے اعترافی جرم میں بتایا ہے کہ میں نے اور عابد نے مل کر موٹروے پر ڈکیتی کی تھی۔ واقعے کا مرکزی ملزم عابد علی جرائم میں میرا ساتھی ہے۔ پہلے ہم نے ڈکیتی کی۔ بعدازاں خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ عابد علی کے ساتھ مل کر وارداتیں کرتا تھا۔ ایک ماہ قبل شیخوپورہ میں واردات کے دوران خاتون سے زیادتی کی کوشش کی تو پولیس پہنچنے پر موقع واردات سے فرار ہوگئے۔ واردات کے لیے عابد نے مجھے اور بالا مستری کو لاہور بلایا تھا۔ ہم تینوں نے شاہدرہ میں دہی بڑے کھائے اور واردات کی منصوبہ بندی کی۔ واردات کیلیئے رکشے پر وہاں پہنچے۔ موٹروے پر واردات کے بعد ایک رات قلعہ ستار گاؤں میں گزاری۔ معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد میں دیپالپور اور عابد اپنے والد کے پاس مانگا منڈی چلا گیا۔ عابد سے آخری رابطہ تین روز قبل ہوا۔ ملزم نے مزید بتایا کہ موٹروے کے قریب گھات لگا کر واردات کے لیے بیٹھے تھے۔ واردات کے لیے تینوں کو بلایا گیا لیکن بالا مستری واپس چلا گیا۔ جب دیکھا کہ گاڑی میں صرف خاتون اور بچے ہیں تو گاڑی کے پاس گئے اور گاڑی کے ارد گرد کئی چکر لگائے۔ خاتون سڑک سے نیچے نہیں جا رہی تھی۔ بچوں کو نیچے لے کر گئے تو خاتون بھی سڑک سے نیچے آگئی۔ پھر بچے پر اسلحہ تان کر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ گاڑیاں روکنے کیلئے پتھر اور لکڑیاں سڑک پر پھینک دیتے تھے۔ اسی طرح صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ ملزمان نے واردات کی رات گاڑی کے شیشے توڑے جس سے عابد کا ہاتھ زخمی ہوا۔ خاتون نے جب گاڑی کا شیشہ کھولنے سے انکار کیا تو پتھر کی مدد سے شیشے توڑے۔ عابد کے زخمی ہاتھ کے خون کے قطرے بھی گاڑی کے شیشے پر تھے۔ ان خون کے قطروں سے ملزم عابد کا ڈی این اے میچ کرگیا۔ واردات کی رات دونوں نے شراب پی رکھی تھی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More