The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

مولانا فضل الرحمن کی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات ، عیادت کی … ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی عروج پر ہے، معیشت زیرو سے نیچے چلی گئی، مولانا فضل الرحمن جب تک سلیکٹڈ اور … مزید

5

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 13 ستمبر2020ء) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکمران اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی عیادت کی ۔چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر صحافی نے مولانا فضل الرحمن سے سوال کیا کہ مولانا صاحب کیا آل پارٹیز کانفرنس اور آپ کی نئی تحریک نتیجہ خیز ثابت ہوگی ‘جے یو آئی سربراہ نے اے پی سی پر بات کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ میں چوہدری شجاعت صاحب کی عیادت کیلئے آیا ہوں۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کی اور ان کی عیادت کی۔میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوںنے کہاکہ گزشتہ روز سینیٹر طلحہ محمود کی بچی کی شادی پر چوہدری شجاعت سے ملاقات ہوئی تھی،چوہدری شجاعت کی طبیعت دیکھ کر ان کی صحت کے لئے پوچھنے آنا کا کہا تھا،سیاسی باتیں نہیں ہوسکتی تھی حلوہ کھایا قہوہ پیا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ چوہدری صاحب کی طبیعت ایسی نہیں کہ ان کی طبیعت پر اور بوجھ ڈالا جائے۔

انہوںنے کہاکہ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی عروج پر ہے، معیشت زیرو سے نیچے چلی گئی۔ انہوںنے کہاکہ جب تک یہ سلیکٹڈ اور عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ مارنے والے موجود ہیں، پاکستان اور اکانومی محفوظ نہیں ہے۔موٹروے زیادتی واقعے پر بات کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ عام خاتون کی عزت بھی محفوظ نہیں ہے، شرم آتی ہے کہ ایسے واقعات کو دیکھ کر بھی ریاست مدینہ کا نام لیتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کو سخت سزائیں دی جائیں تاکہ عبرت کا نشان بن جائیں۔آل پارٹیز کانفرنس پر بات کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ایک بات وضاحت سے کہنا چاہتا ہوں کہ اے پی سی میں ٹھوس فیصلے کرنا ہونگے، روایتی قراردادوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ ٹھوس اقدامات کیا ہونگے، یہ میں اجلاس میں بتاؤنگا۔انہوںنے کہاکہ آج سربازار ختم نبوت پر ناموس صحابہ پر حملے ہورہے ہیں،جب کوئی قانون ہاتھ میں لیتا ہے تو پھر باتیں کرتے ہیں ،یہ جو ریاست کی خاموشی ہے وہ بتاتی ہے ریاست اس کے پیچھے ہے ،جو عمل کیا گیا اس پر ردعمل آرہا ہے ۔ صحافی نے سوال کیاکہ گینگ ریپ والوں کو سرعام پھانسی ہونی چاہئے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ سرعام پھانسی پر ابھی سوچا نہیں،سرعام پھانسی کا ایگزیکٹو اختیار حکومت کو ہوتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ اصل مسئلہ سزا کا یقین مجرموں کے ذہنوں میں لانا ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More