The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

موجودہ حکمران مہنگائی کے ذریعے عوام کا کچومر نکال کر عوام کو مار دینا چاہتے ہیں‘زاہد حامد

15

سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 18 اکتوبر2020ء) مسلم لیگ ن کے مرکزی راہنما و سابق وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا ہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے غریبوں کو ریلیف دینے کے لئے کابینہ کا اجلاس بلایا اور اس اجلاس کے بعد غریبوں کو ریلیف یہ دیا گیا کہ بجلی کی قیمت میں 83 پیسے فی یونٹ اور نایاب ہونے والی گیس کی قیمت میں 147 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا گیا جس سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ موجودہ حکمران مہنگائی کے ذریعے عوام کا کچومر نکال کر عوام کو مار دینا چاہتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے صحافیوں سے ایک ملاقات کے دوران کیا۔ زاہد حامد نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ایک نفسیاتی مریض اور اس کے دل،دماغ و ذہن میں جو اوٹ پٹانگ آ تا بول دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کون سی ایسی بات نہیں ہے جس پر وزیراعظم نے یو ٹرن نہ لیا ہو اور اوپر سے عندیہ دیا جاتا ہے کہ یو ٹرن لینے والا ہی اصل لیڈر ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کوئی ایسا وعدہ جو وزیراعظم نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیا تھا اور پورا کیا ہو۔

انھوں نے کہا حکومت کرنا وزیراعظم عمران خان کے بس کی بات نہیں بلکہ وہ اپنی پیرنی کے ساتھ کسی مزار پر بیٹھ کر اللّٰہ اللّٰہ کرے۔انھوں نے کہا کہ 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے ہونے والے جلسے نے موجودہ حکمرانوں کو پاگل کر دیا ہے کیونکہ جلسہ میں عوام کی شرکت نے ان کی ننیدیں حرام کر دی ہیں جبکہ کراچی میں ہونے والا پی ڈی ایم کا جلسہ حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی گزشتہ روز کی تقریر ایک ہارے ہوئے بندے کی تھی جو بہت غصے میں تھا مگر میاں نواز شریف نے تو وزیر اعظم کو مخاطب کیا ہی نہیں تھا۔ میاں نواز شریف نے تو ان کو کہا تھا کہ سیاست اور حکومت کرنا آپ کا کھیل نہیں آپ اس سے باہر ہو جائیں اور جن کا کھیل ان کو کھیلنے دیں۔انھوں نے کہا کہ میر ا یہ دعویٰ ہیکہ وہ موجودہ حکومت اپنا وقت پورا نہیں کر گی بلکہ اس حکومت کو لینے کے دینے پر جائیں گے اور ان کو راہ فرار کا موقع بھی نصیب نہیں ہو گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More