The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ملک میں غدار بنانے کی فیکٹری بند کی جائے، پاکستان میں کوئی غدار نہیں ہے،سب پاکستانی اور محب وطن ہیں،سینیٹر مشتاق احمد خان … سابق وزیراعظم موجودہ جرنیلوں اور موجودہ وزیراعظم … مزید

20

بنوں(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 18 اکتوبر2020ء) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے ملک میں غدار بنانے کی فیکٹری بند کی جائے۔ پاکستان میں کوئی غدار نہیں ہے، ہم سب پاکستانی اور محب وطن ہیں۔ حکومت اور راولپنڈی والے غداری کے سرٹیفیکیٹ دینا بند کر دیں۔ سابق وزیراعظم موجودہ جرنیلوں اور موجودہ وزیراعظم سابق جرنیلوں پر الزامات لگا رہے ہیں۔ چیف جسٹس سے مطالبہ کرتا ہوں کہ عمران خان اور نواز شریف اور دو موجودہ اور سابقہ جرنیلوں کو بلا کر ان سے پوچھ گچھ کی جائے اور الزامات کی تحقیقات کی جائے اور جو مجرم ہیں انہیں سزا دی جائے۔ انہوں نے اسے میوزیکل چیئر اور شیطانی چکر بنا دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور جرنیلوں کو سیاست میں دخل اندازی کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔

(جاری ہے)

پاکستان عوام کا ہے اور یہ دستور کے مطابق چلے گا۔

سیاستدانوں کو سرے محل، لندن فلیٹس، اور پانامہ کے اکاؤنٹس کا حساب دینا ہوگا۔ سابق حکمرانوں کو چوری کے حساب سے بچنے کے لیے جمہوریت اور پارلیمنٹ کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے۔ پاک فوج کے شہداء ہمارے دل کے ٹکڑے ہیں لیکن جرنیلوں کو بھی شہداء کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے۔ پاکستان پاکستانیوں کا ہے۔ جماعت اسلامی سابقہ سیاستدانوں اور سابقہ جرنیلوں کا احتساب کرے گی۔ جنوبی اضلاع کی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں۔ حکومت جنوبی اضلاع میں سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے اقدامات اٹھائے۔ سی پیک اور اکنامک زون جنوبی اضلاع کا حق ہے، انہیں اس حق سے محروم نہ کیا جائے۔ جنوبی اضلاع کو ہر قسم کے حقوق صرف جماعت اسلامی دلا سکتی ہے۔ جماعت اسلامی جنوبی اضلاع کو موٹروے اور ریلوے ٹریک دے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تاجی کلی بازار بنوں میں شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ عام سے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان، امیر ضلع پروفیسر اجمل خان اور سابقہ امیدوار پی کے 88 اختر علی شاہ نے بھی خطاب کیا اس موقع پر جماعت اسلامی ضلع لکی مروت کے امیر عزیز اللہ خان، سابقہ ناظم طیب شاہ عباسی بھی موجود تھے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ جنوبی اضلاع مسائلستان بن چکے ہیں۔ سابقہ اور موجودہ حکومتوں نے جنوبی اضلاع کی ترقی، خوشحالی اور انہیں ملک کے باقی شہروں کے برابر لانے کے لئے کسی قسم کے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے۔ حکومت گیس اور پٹرول پیدا کرنے والے اضلاع میں آئل ریفائنری یونٹس کا قیام عمل میں لائے اور انہیں رائلٹی دے۔ جنوبی اضلاع کے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دلانے کے لئے انڈسٹریل زونز قائم کئے جائیں تاکہ بیروزگاری میں کمی ہو۔ انڈس ہائی وے کو دو رویہ کرنے کا کام تیز کیا جائے اور اسے بروقت مکمل کیا جائے۔ جنوبی اضلاع کو تمام منسلکہ سہولیات کے ساتھ سی پیک موٹروے دی جائے اور سپیشل اکنامک زون قائم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 7 کروڑ بچے غیر محفوظ ہیں، حکومت نے زینب الرٹ بل میں جرم ثابت ہونے پر سر عام پھانسی کی سزا دینے کی میری تجویز مان لی ہوتی تو آج بچے اس طرح نہ مر رہے ہوتے۔ شرم کی بات ہے کہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ یورپی یونین کی ناراضگی کی وجہ سے سر عام پھانسیاں نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ فاٹا میں ظلم بند کیا جائے۔ محمد خیل میں سیاسی اتحاد کا دھرنا جاری ہے لیکن حکومت نوٹس نہیں لے رہی، اسلام اباد ڈی چوک میں لیڈی ہیلتھ ورکرز احتجاج کررہی ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی۔ حکومت سے کہتا ہوں کہ ہمیں فاٹا میں امن چاہئے، گھروں پر چھاپے اور نوجوانوں کو غائب کرنے کا عمل کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔ ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ بند کیا جائے اور امن و امان کی فضا بحال کی جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More