The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

معاشی راہداری حکومت کی اولین ترجیح ہے، ہم علاقائی اقتصادی اور تجارتی ترقی کے خواہاں ہیں، پرامن اور مستحکم افغانستان خطے میں تجارتی روابط کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر معید … مزید

6

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 15 ستمبر2020ء) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ معاشی راہداری حکومت کی اولین ترجیح ہے، ہم علاقائی اقتصادی اور تجارتی ترقی کے خواہاں ہیں، پرامن اور مستحکم افغانستان خطے میں تجارتی روابط کے لیے ناگزیر ہے، بین الافغان امن مذاکرات کا آغاز خوش آئند ہے، پاکستان طویل عرصے سے کہتا رہا کہ افغانستان مسئلے کا فوجی حل نہیںہے ۔ وہ منگل کو شنگھائی تعاون تنظیم ممالک کی قومی سلامتی کے سیکرٹریوں کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ افغانستان کا مستقبل مذاکرات میں ہے،افغان اسٹیک ہولڈرز اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں،افغانستان کو مل کر جامع اور پائیدار سیاسی حل تلاش کرنا چاہیے، پاکستان افغانستان میں امن کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا ،افغانستان کے مستقبل بارے میں فیصلہ کرنے کا صرف افغان کو حق ہے،کسی بھی بیرونی ملک کو افغانستان میں امن کا ضامن تصور نہیں کیا جا سکتا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن اور مفاہمت کیلئے سب سے زیادہ تعمیری کردار ادا کیا، پی ٹی آی حکومت کا ویڑن معاشی راہداری روابط کے فروغ ہے،پاکستان خطے میں امن کی خواہش رکھتا ہے، پاکستان پرامن مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کا خواہاں ہے۔ معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی، یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات مذاکرات میں رکاوٹ ہیں، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی مذمت کی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مقبوضہ علاقوں میں ریاستی دہشت گردی کے مرتکب ممالک کی مذمت کرنی چاہیے ، ہمیں قوم پرستی، فاشزم اور مذہبی انتہاپسندی کے خلاف متحد ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا کے بڑھتے رجحان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان شنگھائی کواپریشن آرگنائزیشن میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا،پی ٹی آئی حکومت اور ایس سی او کے امن، ترقی، استحکام اور معاشی روابط اور استحکام اہداف میں ہم آہنگی ہے،دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہماری ترجیح ہے،ہم علاقائی ممالک کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم معاشی راہداری اور روابط کے ذریعے علاقائی تعاون کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں، شنگھائی تعاون تنظیم رکن ممالک کے مابین رابطے اور تعاون مربوط کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More