The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

مظفرآباد‘کشمیر کونسل کی اسکیمیں محکمہ لوکل گورنمنٹ کی ملی بھگت سے بندر بانٹ ، 66لاکھ بروپے بیٹے،34لاکھ خاندانوں میں تقسیم

16


Live Updates

اتوار اکتوبر
14:30

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 18 اکتوبر2020ء) کشمیر کونسل کی اسکیمیں محکمہ لوکل گورنمنٹ کی ملی بھگت سے بندر بانٹ ، 66لاکھ بروپے بیٹے،34لاکھ خاندانوں میں تقسیم،وزیر اعظم آزادکشمیر کے تمام بیانات ہوا میں اڑ گئے ، گزشتہ تین سالوں کے فنڈز پسند نا پسند کی بنیادوں پر کشمیر کونسل کے دستخطوں سے اسکیمیں جاری ہوئی لیکن اسکیموں کا وجود زمین پر ہے ہی نہیں ، دی جانے والی اسکیموں میں بھی کرپشن جبکہ آزادکشمیر میں نمبرون آنے والا محکمہ لوکل گورنمنٹ کا احتساب کرنے کے بجائے کرپشن میں ملوث آفیسران کو ترقی دی گئی ،کوئی پوچھنے والا نہیں ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی حکومت آزادکشمیر میں قائم ہوتے ہی وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے حلف برادری کی تقریب میں ریاست کو کرپشن سے پاک اور کشمیر کونسل پر اختیار آزادحکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا ، اُن کے بیان کے بعد ریاست میں تعمیر و ترقی نہ ہوسکی ، گزشتہ چار سالوں میں 7ارب روپے لیپس ہوگئے جبکہ کشمیر کونسل کے ملنے والے فنڈز جو پانچ کروڑ سالانہ تھے وہ مسلم کانفرنس کے مختیار عباسی کو ملے جنہوں نے علاقے میں تقسیم کئے مگر ممبر کشمیر کونسل میر محمد یونس کو ملنے والے فنڈز میں 2کروڑ 52لاکھ روپے کی اسکیمیں ہی عوام کو دی گئی ،جن میں سے چند ایک لوگوں کو ملی جو کہ سوالیہ نشان ہے ،جن کا آج تک پتہ نہ چل سکا ، ذرائع کے مطابق 2020ء میں ایک کروڑ کی اسکیمیںبندربانٹ کی نظر،66لاکھ میر محمد یونس کے بیٹے جبکہ باقی 34لاکھ خاندان میں تقسیم کی گئی ، جس سے الیکشن 2021ء کی تیاریاں شروع کردی ،وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے دعوے تو کئے مگر اُس پر عملدرآمد نہ ہوسکا،اور نہ ہی کرپشن میں ملوث افراد کا احتساب ہوسکا،محکمہ لوکل گورنمنٹ جو کرپشن کا گڑھ ہے اس کے خلاف بجائے کاروائی کرنے کے ، ملوث افسرانوں کو ترقیاب کیا جارہا ہے جو کہ سوالیہ نشان ہے۔



اپوزیشن اتحاد کی تحریک سے متعلق تازہ ترین معلومات

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More